وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 22 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 22

رحلت محله انز مره اسود و نیز می گویند که بر دفه التحضرت انوار نبوت جلوه گر می باشند ترجمه : حضرت یوز آسف بیت المقدس سے وادی اقدس کی جانب مرفوع ہوئے اور آپ نے پیغمبری کا دعوی کیا۔شب و روز عبادت الہی میں مشغول تھے اور تقویٰ و پارسائی کے اعلی درجہ کو پہنچ کر خود کو اہل کشمیر کی رسالت کے لیے مبعوث قرار دیا اور دعوت علائق میں مشغول ہوئے چونکہ خطہ کشمیر کے اکثر لوگ آنحضرت (یوز آسف) کے عقیدت مند تھے راجہ گو پا نند نے ہندوؤں کا اعتراض اُن کے سامنے پیش کیا اور آنحضرت کے حکم سے سلیمان نے جسے ہندوؤں نے سند یان کا نام دیا تھا گنبد مذکورہ کی تکمیل کی رشتہ تھا ، اس نے گنبد کی سیڑھی پر لکھا کہ اس وقت یونہ آسف نے دعوئی پیغمبری کیا ہے اور دوسری سیڑھی کے پتھر پر لکھا کہ آپ بنی اسرائیل کے پیغمبر یسوع ہیں۔میں نے ہندوؤں کی کتاب میں دیکھا ہے کہ آنحضرت دیوز آسف) بعینم حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلواۃ تھے اور آپ نے یوز آسف کا نام اختیار کیا ہوا تھا۔والعلم عند اللہ آپ نے اپنی عمر اسی جگہ سر کی اور وفات کے بعد محلہ انزمرہ (سرینگر ) میں دفن ہوئے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آنحضرت کے روضہ ہے انوار نبوت جلوہ گر ہوتے ہیں۔قلمی تاریخ کا اصل متن فارسی میں ہے جس کا مکس کشمیر کے مشہور ماہر آثار قدیمہ اور را یہ رچ سکالر جناب محمد یسین ایم۔اے۔ایل ایل بی۔پی۔ایچ۔ڈی نے بعض محققین کے نزدیک یہ تاریخ حضرت ملا نادری رحمتہ اللہ علیہ کی تالیف ہے علیہ ہے۔