وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 16
14 متمتع کے دن پورے کر کے مر جاؤ گے۔اس آیت میں الارض “ کے معنے قرآنی محاورہ اور روح کے مطابق زمینی ماحول کے ہیں کیونکہ قرآن مجید ہی وہ عظیم کتاب ہے میں نے چودہ سو سال پہلے یہ وہ خبر دی تھی کہ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّت ه رسورة الانتقاق : آیت (۴) کہ ایک وقت آئے گا کہ زمین پھیلا دی جائے گی مگر یہ کیسے ہوگا ؟ قرآن مجید اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ يخلُقُ مَا لا تَعْلَمُونَ۔(النحل : 9) خدا تعالیٰ ایسی سواریاں پیدا کر دیگا جسے تم ابھی نہیں جانتے۔پھر فرمایا : وَمِنَ الله خَلْقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ ، وَهُوَ عَلَى جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيره (سورة الشورى : آیت ۳۰ ) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تو کچھ ان دونوں کے درمیان جانداروں کی قسم سے اُس نے پھیلایا ہے اس کے نشانوں میں سے ہے اور جب وہ چاہے گا اُن سب کے جمع کرنے پر قادر ہو گا۔پس جبکہ قرآن مجید میں پیشگوئی موجود ہے کہ ایسی ایجادات ہونیوالی ہیں جن سے انسان چاند ، مریخ ، زہرہ اور دوسرے ستاروں یا سیاروں تک پہنچ سکیگا تو ثابت ہوا کہ الارض " سے مراد قرآنی اصطلاح میں ارضی ماحول ہے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان زمینی سواری، زمینی لباس، زمینی خوراک اور زمینی ہوا کو ساتھ لیے بغیر آسمانوں پر نہیں جا سکتا۔پس یہ سیمی عقیدہ کہ یسوع مسیح ارضی ماحول کے سہاروں کے بغیر ہی اپنے جسد خاکی سے آسمان پر چلے گئے، قرآن کریم کی رو سے سراسر باطل ہے