وفا کے قرینے — Page 439
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 439 آنے والے سے عہد نو مکرمہ احمدی بیگم صاحبہ، لاہور اے خدائے ذوالمنن اے مالک کون و مکاں اپنے وعدے پورے کرتا آیا ہے تو ہر زماں جب خلافت کا امیں رخصت اچانک ہو گیا ایک عالم خوف کا ہم پر مسلط ہو گیا پر مرے مولا ترے وعدے تو ٹل سکتے نہیں ہر دل رنجور کو تھا تیرے وعدوں پر یقیں نور کی پھوٹی کرن اور بند دروازہ کھلا دے کے پھر مسرور " تو نے امن قائم کر دیا اک طرف تھا رنج اور تھی دوسری جانب خوشی یہ تسلسل کی کڑی تھی جس نے بخشی تھی خوشی آنے والے کے لئے دل فرش راہ ہم نے کئے اور دعاؤں سے گند ھے پھر ہار لے کر ہم بڑھے اشکبار آنکھیں تھیں اپنی ، دل عزائم سے تھے پر حمد کے لب پر ترانے ، آنکھ میں نور سحر آنے والے سے دوبارہ عہد تازہ پھر کیا آنے والے آ خوشی سے مرحبا صد مرحبا