وفا کے قرینے — Page 396
حضرت خلیفة الحي الخامس ایده الله عالی بنصرہ العزیز 396 ہوا کے رخ زمانے بھر کا سرمایہ وہی ہے مکرم عبدالکریم قدسی صاحب دروازہ وہی ہے فصیل جس میں رستہ وہی ہے لہو کے ، دودھ کے رشتے بہت ہیں دنیا میں بس اپنا وہی ہے بہت پیارے مجھے ماں باپ اپنے دل میں فقط بیستا وہی ہے الفضل ہو ، بیت الفتوح ہو وہ بیت جہاں خطبہ وہ دے ربوہ وہی ہے جدھر بھرم ہے دیکھوں وہ مری فکر و نظر کا کھوں نظر آتا نظر آتا وہی ہے کسی کا کس طرح سکہ چلے گا دلوں کے تخت وہی ہے بھی دریاؤں کے ہیں خشک سوتے سخاوت کا رواں دریا وہی ہے اسی کے ساتھ وابستہ ہے خوشبو زمانے میں گل تازہ وہی ہے