وفا کے قرینے — Page 389
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 380 خزاں نے کر دیئے سارے چمن ویران دُنیا میں مگر طیور روحانی کا ہے یہ آشیاں زندہ خلافت نے دلوں کو پھر نئی اک زندگی بخشی خلافت نے کئے ہیں پھر ہمارے جسم و جاں زندہ خدا کا نور ہی تھے نُورِ دیں ، محمود اور ناصر ایده خدا کا نور تھا طاہر ہمارے درمیاں زندہ خدا نے اب ہمیں مسرور ' دے کر پھر نوازا ہے کیا ہے اس نے آکر پھر دلوں کو شادماں زندہ خُدا کی قدرت ثانی کا ہے یہ مظہر خامس یہ کر دے گا خدا کے نور سے کون و مکاں زندہ کھلیں گے باغ احمد میں کروڑوں پھول خوشیوں کے مہک اُٹھے گی اس میں اک بہارِ جاوداں زندہ سدا دیتا رہے گا باغ احمد پھول و پھل تازہ سدا ملتا رہے گا اس چمن کو باغباں زندہ خدا کے دین کا غلبہ ہے وابستہ خلافت سے یہی ہے وعدہ مہدی ، مسیحائے زماں زندہ سدا قائم رہے گی اب خلافت احمدیت کی قیامت تک رہے گا اب یہ نور قادیاں زندہ