وفا کے قرینے — Page 387
حضرت خلیفة المسح الخام ايده الله تعالى نصرہ العزیز 387 چمه فیض مکرم عبدالصمد قریشی صاحب چشمہ فیض کہ ہر آن رواں رہتا ہے باغ احمد میں بہاروں کا سماں رہتا ہے کتنے خوش بخت ہیں اُس دیس کے رہنے والے جس کے ہر قریہ میں وہ حسنِ جہاں رہتا ہے میرے احساس کی دنیا میں سدا رہتے ہیں ہر گھڑی پاس ہیں وہ ایسا گماں رہتا ہے ہاتھ اُٹھتے ہیں ہر اک اپنے پرائے کے لئے ہرا۔ان کے سینے میں محبت کا جہاں رہتا ہے دل کی دھڑکن میں تمناؤں میں اور سانسوں میں ایک ہی نام ہے جو زیر بیاں رہتا ہے وہ ہیں محبوب زماں ان کی نگہبانی کو خالق ارض و سما کون و مکاں رہتا ہے