وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 281 of 508

وفا کے قرینے — Page 281

حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم الله تعالی 281 جس کی پلکوں پہ بجے ہوں گے وفا کے موتی جس کے سینے میں محبت کا خزینہ ہوگا آنے والے کے گلے لگ کے بلکنے والے جانے والے نے ترا چین تو چھینا ہوگا سے لگا کر رکھنا خاک ربوہ اسے سینے سے پھر وہی ذکر آبگینوں سے بھی نازک یہ دفینہ ہو گا سر وادی سینا ہو گا وہی ساقی ، وہی بادہ ، وہی مینا ہو گا شربت وصل میں شامل ہے جو زہر فرقت ہے اگر عشق تو یہ زہر بھی پیٹا ہو گا تیری کرنوں کو اب اے عہد کے سچے سورج ہجر کی رات کا یہ چاک بھی سینا ہو گا حسن پھر اترا ہے روحوں پہ سکینت بن کر قافلہ پھر سے رواں سوئے مدینہ ہو گا