وفا کے قرینے — Page 459
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 459 تجھ سے محبت کی ہے مکرم لئیق احمد عابد صاحب یہ جو ہر شخص نے خود اپنی تلاوت کی ہے ساری برکت یہ مرے یار خلافت کی ہے نور و محمود کو ، ناصر کو جو طاہر کو ملی وہی مولا نے سپرد آپ کے خلعت کی ہے تجھ کو دِل نقد دیا تجھ سے محبت کی ہے ہم نے مسرور ترے ہاتھ پہ بیعت کی فرش میرے ہونٹوں کی ہنسی اب نہ چرا پاؤ گے مجھ پہ مسرور نے کچھ ایسی عنایت کی ہے کیا عرش پہ پہنچی نماز یکھو اس شخص نے یہ کیسی عبادت کی ہے آؤ دربار خلافت میں وفا پیش کرو یہاں قیمت کوئی دولت کی نہ رنگت کی ہے اپنے اعمال کو تقویٰ سے سجا کر لاؤ میرے آقا نے یہی ہم کو نصیحت کی ہے جس کی چاہت ہمیں لے جائے گی تیرے در تک اُس ترے چاہنے والے سے محبت کی ہے