وفا کے قرینے — Page 458
حضرت خلیفة اصبح الخامس ایده ال تعالى بنصرہ العزیز 458 نہیں اشعار کی بازی گری جھکیں گے سر تو پھر ہو گی اطاعت مسرور نے مژدہ سنایا رہے گی تا قیامت اب خلافت اگر خواهی دلیل عاشقیں باش خلافت هست برهان خلافت نبھائیں گے ظفر عہدِ وفا کو کیا ہے جو سر تخت خلافت مکرم عطاءالمجیب راشد صاحب تیرا آنا قدرت قادر کا اک زندہ نشاں کارواں بڑھتا چلے گا ہر زمان و ہر مکاں نصرت مولا کا وعدہ عرش سے تیرے لئے تیرے پیاروں کی دعائیں ساتھ تیرے ہر زماں