وفا کے قرینے — Page 26
حضرت خلیفہ المسیح الا ول رضی اللہ عنہ 26 حضرت مولانا نورالدین کا مقام مکرم را جه نذیر احمد ظفر صاحب ربوه مٹ نہیں سکتا تصور سے وہ نقش دلنشیں وہ مُحبّ مهدی آخر زماں وہ نور دیں جس کی ہمت سے عیاں کون و مکاں کی وسعتیں وہ خودی کا آسماں وہ عجز و طاعت کی زمیں چشمہ ہائے علم وحکمت جس کے ہونٹوں سے رواں جس کے دل میں موجزن تھا ایک دریائے یقیں جس کی خاطر مائده نازل ہوا صبح و مسا ظاہری اسباب سے بالا رہا جس کا یقیں طائر دل گو رہا خود بے نیاز آشیاں لیک یارِ بے مکاں اس میں رہا ہر دم مکیں شاہ تھے پر فقر سے رکھتے تھے ہمت کو بلند ی تھی ان کی نظر میں رفعت چرخ بریں ظر ہو یا کیسر ہو سب خوب تھا اُن کیلئے حسن رؤیت کا کرشمہ تھا کہ تھی ہر شے حسیں