وفا کے قرینے — Page 406
حضرت خلیفہ اسی الخامس ایدہ اللہ علی بنصرہ العزیز 406 یار دلنشیں مکرم عبدالصمد قریشی صاحب خدا کرے کہ کٹے زیست اس مکیں کی طرح کہ جس کا قول و عمل ہو کسی امیں کی طرح رہ حیات میں دیکھے ہیں یوں تو لاکھ حسیں نہیں ہے کوئی بھی اس بار دلنشیں کی طرح دکھائی دیتی ہیں ہر سمت اُس کی تصویریں اندھیری شب میں چمکتا ہے وہ نگیں کی طرح وہ اپنے حسن میں یکتا ہے بے مثال ہے وہ نہ کوئی چاند نہ سورج مرے حسیں کی طرح یوں فرط وکیف میں کٹتے ہیں اپنے شام و سحر وہ میری سانسوں میں رہتا ہے ہمنشیں کی طرح میں ایک خواب ہوں میرا کوئی وجود کہاں اُسی کا قرب مرے ساتھ ہے یقیں کی طرح