وفا کے قرینے — Page 398
حضرت خلیفة الحي الخامس ایده ال تعالى بنصرہ العزیز 398 خلافت ہی وہ طاق جلوۂ حسنِ یقیں ہے الحاج مکرم محمد افضل خان صاحب ترکی جنوں کے مرحلے، عقل و خرد سے دور ہونگے فراست کی نظر ہو، نور سے معمور ہونگے ہمیں ظلمات ہستی سے ذرا کھنکا نہیں ہے ہمارے دل سدا ایمان سے پُرنور ہو۔ہونگے خلافت ہی وہ طاق جلوہ حسنِ یقیں۔ضیاء سے جس کی ، اندھیرے سبھی کافور ہونگے باء کبھی ہم دم نہ لیں گے خدمت دین مبیں۔مخالف اپنی کرتوتوں سے تھک کر چور ہونگے مثال اپنی زمانے میں سدا قائم رہے گی کناروں تک زمیں کے ہم بڑے مشہور ہونگے بہاروں کی بارات آئی ہے دیکھو گلستاں میں کلی دل کی کھلے گی ، باغباں مسرور ہونگے قدم بوسی کو ہم جاتے ، خلیفہ المسیح کی سبب سے بھیڑ کے ، ہم لوگ بھی مجبور ہونگے قدر ہو گی تو ہوگی خاکساروں کی جہاں میں جھکیں گی گردنیں ترکی! اگر مغرور ہونگے