وفا کے قرینے — Page 381
حضرت خلیفة اسم الخامس ایده ال تعالى بنصرہ العزیز 381 محبوب جہاں مکرم عطاء المجیب راشد صاحب نور ایمان سے دنیا میں سویرا کر دے دور مسرور میں یارب یہ کرشمہ کر دے وہ جسے تو نے چنا دیں کی امامت کے لئے اس کی تدبیر کو تقدیر سے یکجا کر دے جس سے وابستہ ہے اسلام کی عظمت مولیٰ اُس کی عظمت کو نشانوں سے ہویدا کر دے جس کے ہر کام میں ہے نصرتِ باری کی جھلک اس کے قدموں کو تو ہمدوش ثریا کردے جس کے سینہ میں ہوا نور سماوی کا نزول اس کے انوار سے ہر دل میں اجالا کر دے تو چُنے جس کو وہ بن جاتا ہے محبوب جہاں اپنے پیارے کو ہر اک آنکھ کا تارا گردے تو ہے جب ساتھ تو پھر ساتھ ہے سارا عالم ساری دنیا پہ تو ظاہر یہ نظارہ کر دے روز روشن میں بھی جن آنکھوں میں کچھ نور نہیں اپنی رحمت سے خدایا انہیں بینا کر دے