وفا کے قرینے — Page 379
حضرت خلیفة الحي الخامس ایدہ اللہ علی بنصرہ العزیز 379 بنا ملا ورثه دورِ خلیفہ پنجم مکرم عبدالسلام اسلام صاحب ہیں اہلِ گلشن کہ رخ ہے الوری کا مرزا کا! تے پیش سب نذرانہ دل نے عہد باندھا ہے وفا کا چہچہانے گیا یکدم ہوا کا تمناؤں کے جال تھلیں گے نفس جھونکا صبا کا ! تری موج ! مبارک ! صد مارک و مصر خلافت کی قبا فقیروں کو ہے مبارک قتا کا تو مرور سب مسرور ہوں گے ہے مٹے گا دیتا با دشاہی ترے سائے میں ہے سایہ ہما کا ! اب جور و جفا کا لگے گی کیوں نہ اپنی پارکشتی؟ خدا حامی ہے جب اس ناخدا کا