وفا کے قرینے — Page 359
حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی 359 کون ہے جس نے نہ پایا تجھ سے فیضانِ دُعا کون ہے جس پر کرم تیرا ہوا نہ بار بار کس کو بتلائے کہ کتنا بے سہارا ہو گیا یہ ترا عابد ترا عاشق ترا خدمت گزار جب زیادہ ہی دکھے تو دل کو سمجھاتے ہیں ہم یہ ہمارا تو نہیں قادر کا ہے سب کاروبار آئی پہلے بھی ہم نے جہاں زیر زمیں رکھے ہیں چاند پھر وہیں اُگتی ہے دیکھی کہکشاؤں کی قطار باغ احمد میں کھلا پھر اک تروتازہ گلاب ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار آنے والے فضل رب سے تو سدا مسرور ہو جانے والے تجھ پہ اس کی رحمتیں ہوں بے شمار