وفا کے قرینے — Page 358
حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 358 اب تجھے ڈھونڈا کریں گے حشر تک ، لیل و نہار مکرم مبارک احمد عابد صاحب پہلے ہی ہم ہجر کے مارے تھے از حد بے قرار اب تو پریم چل دیا پردیس سے بھی دور پار افتخار بزم تھا تو عزم میں کوہ وقار اب تجھے ڈھونڈا کریں گے حشر تک لیل و نہار تو ہمارے پاس تھا پر آج پردیسی ہوا اب کہاں پائیں گے ہم ابرِ بہاراں کی پھوار سو گیا چپ چاپ تو اے بلبل شیریں نوا پھرتے ہیں گلیوں میں دیوانے ترے پروانہ وار ایک سناٹا سا ہے سارے گلستاں پر محیط ہر کسی کا دل دکھی ہے اور آنکھیں اشکبار حرف گویا تیرے ہونٹوں پر مہکتے پھول تھے حسن جادو اثر تھا لفظ در شہوار ہر آئینوں میں عکس و آہنگ ہیں تیرے جلوہ پذیر یہ تری یادوں کا ہے شہر عجائب زر نگار کون سا دل ہے کہ ہے جو تیری چاہت سے تہی کون سا گھر ہے جہاں چھلکا نہیں ہے تیرا پیار