وفا کے قرینے — Page 304
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 304 دیکھتے ہیں تو ایک تیری طرف سُن رہے ہیں تو ایک تیری صدا مرتعش ہوں گے نغمہ ہائے وفا اک ذرا تو دلوں کے تار ہلا اپنی پیشانیاں سجود آثار دور ނ ابا استکبار آنے والے! تری نگاہوں میں کتنے زخمی دلوں کا مرہم ہے جذبہ دل کو کیا کہوں اس دم طرب ہے کس جذبہ تشکر لا دل بھر آیا ہے موجه غم ہے آنکھ پُر نم ہے پھر خم ہے زندگی کی زمام ہاتھ میں لے زندگی کا نظام برہم ہے آج پھر اسجُدُوا کا حکم ہوا سرتسلیم آج