وفا کے قرینے — Page 302
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 302 مقبرہ کی بہشت زار زمیں! لے اور اک امانت دل و جاں تیری خاموشیوں میں آسوده کتنے محنت کش و جنوں ساماں وچتا ہوں قدم قدم کتنا نازک کوئی دیکھے تو کتنے پیار میں ہے رشته تن و جاں پیار سے چاند میں ہیں تاباں تیری تاریکیوں میں ہے تیری مٹی سے بوئے گل بدناں تجھے سے گزروں تو مجھ کو آتی ذہن میں خود بخود اُبھرتا ہے تصوّر جاناں لے اک اور گلعذار آیا نمائندہ بہار آیا ނ تجدید عہد بیعت کی پھر ہوئی دور آج طاہر کے ہاتھ پر ہم نے اپنی تیرہ شمی آج رو رو کے کی سحر ہم نے