وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 284 of 508

وفا کے قرینے — Page 284

حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 284 سایہ رحمت تھا وہ انصار دیں کے واسطے اور اک حصن حصیں شرع متیں کے واسطے مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر تھی رقصاں ہر گھڑی اور زباں پر تھی شائے رب رحماں ہر گھڑی اُس کے ہر انداز میں اک تمکنت تھی شان تھی ہر ادا اُس کی مجسم محسن اور احسان تھی ہر گا ہے لگتا تھا وہ اک کوہ وقار و اقتدار اور گاہے پیکر مہر و محبت ، لطف و پیار آہ! سُوئے خُلد آخر وہ بھی رخصت ہو گیا جو نہ تھا وہم و گماں بھی وہ بعجلت ہوگہ یک بیک راک گلستاں کا گلستاں مُرجھا گیا ہر کلی ہر پھول ہر سرو و سمن گملا گیا دیکھتے ہی دیکھتے وہ مومنوں کا گلعذار کر گیا اپنی جدائی سے ہر اک کو سوگوار اجنبی لگنے لگا ہر اک کو سارا جہاں جسم بے جاں سا نظر آتا تھا ہر خورد و کلاں