وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 282 of 508

وفا کے قرینے — Page 282

حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 282 یوں چڑھا ہے جو نئے عہد کا سورج بن کر خاتم یار کا یہ چوتھا نگینہ ہو گا اس کے دربار میں جاؤں گا خطائیں لے کر میرے ہمراہ ندامت کا پسینہ ہو گا کشتی نوح میں بیٹھے تو ہو لیکن مضطر شرط یہ ہے یہیں مرنا یہیں جینا ہو گا مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب رکھے گا زمانہ یاد ا سے جو ناصر دیں نے کام کیا شمشیر محبت سے اس نے دشمن کے بھی دل کو رام کیا ابلاغ صداقت کی خاطر دن رات رہا وہ محو سفر تثلیث کے گہواروں میں بھی تو حید کا اونچا نام کیا