وفا کے قرینے — Page 267
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 267 مسکراتا رہا مسکرانے کی اس فین وہ کرتا سدا رہا جماعت کو تسکین دیتا رہا اس کی راہوں کی تعیین کرتا رہا اس کی صورت حسیں ، اُس کی سیرت حسیں وہ ، وہ کشادہ جبیں شگفت دہن درس اہل وفا کو یہی دے گیا سے کسی سے بھی نفرت نہیں سات سو سال کے بعد مسجد کی پھر اُس کے ہاتھوں سے رکھی گئی ہے بنا تشنہ لباں اُس نے اسپین میں چشمہ فیض حق پھر سے جاری کیا یاد تازہ تھی فضل تھی فضل عمر کی ابھی اک نیا وار نیا وار تقدیر نے کر دیا چوٹ تازہ ہوئی زخم رسنے لگے اک نیا درد دل میں مرے بھر دیا