وفا کے قرینے — Page 237
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم الله تعالی 237 خلافت نے رکھا ہے باندھ کر ملت کا شیرازہ خلافت کی صداقت اسی سے دوڑتا ہے جسمِ ملت میں لہو تازہ تسلیم خم اپنا مئے عشق محمد کا یہی ہے جام جم اپنا خلافت شمع حق ہے اور ہم ہیں اس کے پروانے بھلا اس راز کو سمجھیں گے کیا دنیا کے فرزانے ہزاروں آندھیوں نے زور باندھا، زلزلے آئے بڑھے اس کو بجھانے حزب باطل کے گھنے سائے فروزاں یہ رہی پیہم بغایت شان زیبائی ملی ہر اک قدم پر دشمنان دیں کو پسپائی خلافت کی اطاعت ہی میں مضمر کامرانی ہے یہی وجہ سرور و انبساط و انبساط و شادمانی سلام اس پر کہ جو ہے جلوہ گر تخت خلافت پر ہے قدم مضبوط ہے جس کا محمد کی اطاعت پر ہے عاجز پر نگاہ لطف کی یہ کار فرمائی زباں تھی سٹنگ اس کی ، مل گئی اب تاب گویائی