وفا کے قرینے — Page xxii
XX 264 مکرم انور ندیم علوی صاحب سانسوں میں بسنے والے کیوں دور ہو گئے ہیں 386 مکرم عبدالصمد قریشی صاحب چشمہ فیض کہ ہر آن رواں رہتا ہے 387 266 مکرم سراج الحق قریشی صاحب خلافت دین حق کی برکتوں کا اک نشاں زندہ 388 خدا کے فضل کا سایہ ہمیشہ ہی رہے قائم 267 مکرم انور ندیم علوی صاحب تجھ کو خدا نے سایہ رحمت بنا دیا 268 مکرم عبدالمنان ناہید صاحب الہی رنگ سے رنگین ہے ہر قدرت ثانی 269 مکرم حمید المحامد صاحب 270 مکرمہ شہناز اختر صاحبہ 390 391 394 خلافت آسماں سے ایک نعمت کبریائی ہے 395 271 مکرم عبدالکریم قدسی صاحب ہوا کے رخ پہ دروازہ وہی ہے 272 مکرم عطاءالمجیب راشد صاحب ہے خلافت کی محبت بحرنا پیدا کنار 396 397 273 الحاج مکرم محمد افضل خاں صاحب تر کی جنوں کے مرحلے عقل و خرد سے دور ہونگے 398 399 403 404 274 مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبه خلافت اب تمنائے جاں ہے عمر دراز دے یارب ہمیں وفا 275 مکرم جمیل الرحمان صاحب 276 مکرم چوہدری اعظم نوید صاحب خلافت ہے نعمت خلافت انعام کفر و باطل پر اب وقت شام آچکا 277 مکرم مبارک احمد ظفر صاحب 278 مکرم عبدالصمد قریشی صاحب خدا کرے کے کٹے زیست اس میں کی طرح 406 وہ رشک ملائک یہی تاج ہے 279 مکرم عبدالسلام اسلام صاحب 280 محترمہ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ آگے بڑھتے رہو دم بدم دوستو 281 مکرمہ شہناز اختر صاحبہ خلافت چشمہ علم و ہدی نوریقیں محکم مکرم ارشاد عرشی ملک صاحبه عرشی مری طرح سے سبھی کو ہے اعتبار 405 407 409 411 412