وفا کے قرینے — Page 139
حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 139 کبھی تیغ نبوت کی چمک سے کفر لرزاں ہیں کبھی ایوانِ ظلمت بھی خلافت سے چراغاں ہیں ازل سے آج تک یونہی مقابل نور وظلمت ہیں خداوند جہاں کی بات پر دونوں شہادت ہیں وصال مهدی برحق باطل یہ سمجھ بیٹھا که دور ظلمت آگئیں آگیا اب نقش حق اُٹھا اولو العزم و مبارک دینِ حق کا جو خلیفہ ہے کیا ہے چار جس نے تین کو وہ میرا آقا ہے ہزاروں سال سے قو میں تھیں تشنہ جس خلافت کی ہمیں اللہ نے رحمت سے وہ نعمت عنایت کی پلائیں گے مئے رحمت جہاں میں تشنہ کاموں کو مٹائیں گے جہاں سے کفر کے باطل نظاموں کو زمانے کو بلائیں گے رہ حق و صداقت پر کٹا دیں گے ہم اپنی گردنیں شان خلافت پر ہمیں نعمت ملی یہ نعمت اللہ واحد ہے ہماری خوش نصیبی پر کلام اللہ شاہد ہے