وفا کے قرینے — Page 131
حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 131 برکات ہیں یہ صدق خلافت کے نور کی ! حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی عبرت کا ہے مقام یہ منزل غرور کی! سر نہاں ہے حد عواقب امور کی! کہتے تھے پاک ، پر ہیں تقدس کے برخلاف حالت عناد ہوئی ایسی شعور کی! رت علیم نے محمود نام رکھا مذموم اس کو کہنا مذمت ہے نور کی! - عالم ہے جس کے دور میں اک جلوہ گاہِ حق ، موسی کہاں کہ دیکھے تجتی وہ طور کی! بھی احیاء خلق انقلاب دہر ہمیشیں روز نشور کی! دکھلا رہا ہے محمود کا دور انقلاء ہر قوم میں ہے شیر یا نان یا نور کا وحد نما بھی اک دورِ حمد ہے لکھی خبر صحیفوں میں جس کے ظہور کی! ہے ہوا شیح کی! وہ لوگ خوش نصیب ہیں جن کو ملا یہ وقت شکر پائیں برکتیں ربّ شکور کی! صد