وفا کے قرینے — Page 114
حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 114 بقائے خلافت مکرم ثاقب زیروی صاحب سنی ہم نے جس دم نوائے خلافت ہوئے جان و دل سے فدائے خلافت ہمیں خلد ربوہ کی پہنائیوں میں نظر آرہی ہے روائے زمانے کی رفتار کہہ رہی ہے بقا عدل کی ہے بقائے خلافت رہے جسے خلافت کسی کے لبوں پر قصائد جہاں کے ہمارے لبوں پر ثنائے تک وہ ثنا خوان اس کا جلوہ دکھائے خلافت خلافت بصیرت جسے دے وہ ربّ دو عالم وہی باندھتا ہے ہوائے خلافت اندھیرے گھروں میں اُجالے ہوئے ہیں گئی ہے کہاں تک ضیائے خلافت خلافت سہارا ہے ہم غمزدوں کا اسے رکھ سلامت خدائے خلافت