وفا کے قرینے — Page 477
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 47 ماں کی دُعاؤں جیسا مکرمہ تهمینه مین صاحبه، ر بوه زیست کی دھوپ میں اک شخص ہے چھاؤں جیسا اس کا ہونا ہے بہاروں کی ہواؤں جیسا Cenis Com اس نے اندر کے اندھیروں کو اُجالے بخشے پیاسی روحوں کو ، وہ ساون کی گھٹاؤں جیسا جب کبھی بھی کسی مشکل نے ہمیں آگھیرا مجھ کو وہ شخص لگا ، ماں کی دعاؤں جیسا اس کی عادت ہے ، جلائے گا محبت کے چراغ گرچه دشمن کا رویہ ہے ہواؤں جیسا جب بھی وہ ہونٹ ہلے نور کی برسات ہوئی اس کا ہر قول ہے سورج کی شعاعوں جیسا غیر ممکن ہے کہ دکھلا دے نمونہ کوئی اک خلافت سے کروڑوں کی وفاؤں جیسا