وفا کے قرینے — Page 394
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 394 قدرت ثانیہ کا ظہور مکرم حمیدالمحامد صاحب الی رنگ سے رنگین ہے ہر قدرت ثانی نیابت میں مسیح پاک کے بہ شکل نورانی برستے ہیں تیرے انوار و انعامات ربانی ترا جود و کرم بندے پہ اور اس درجہ ارزانی کرم ہے اے مرے مولا ترا یہ لطف بے پایاں مٹا جب نقش اول تو ملا پھر مظہر ثانی خدا کو اپنے بندوں کا لحاظ و درد ہے کتنا میسیج پاک کا ہم کو دیا پھر نقش لاثانی تھا جو خوف و خطر پل بھر میں سب کا فور کر ڈالا خلافت کی جدائی تھی ہمیں بے سر و سامانی لگے چھٹنے اندھیرے غم کے پھر آہستہ آہستہ که تنویر مسرت بن کے آیا یوسف ثانی وہ اک ماہ مبیں بن کر فرازِ دہر میں اُبھرا چمک نے جس کی خیرہ کر دیے سب تاج سلطانی اعادہ کر رہا ہے پھر سے وہ اسباق پارینہ ترقی کیلئے لازم ہے یہ یہ تعلیم دہرانی