وفا کے قرینے — Page 297
حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحم الله تعالی 297 اُس کے سائے میں جنتیں ٹوٹیں تھا اور پیار والا تھا کر کے چھوڑ گیا ظلمتوں پالا تھا ناگہاں چاند اک طلوع ہوا اب کے طاہر کا اُجالا تھا علاج جُدائی پہنچا نامه دیں کا بھائی آ پہنچا مکرم چودھری شبیر احمد صاحب وہ صبر ورضا کا پیکر تھا دکھ درد کو ہنس کر سہتا تھا یوں خلق محمد کو اس نے اپنا کے جہاں میں عام کیا