وفا کے قرینے — Page 280
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 280 خاک ربوہ اسے سینے سے لگا کر رکھنا مکرم پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب اب اسی دھن میں بھرے شہر کو جینا ہو گا تجھ سے ملنے کا بھی کوئی تو قرینہ ہو گا اشک در اشک تجھے ڈھونڈنے نکلیں گے لوگ وصل کے شہر میں فرقت کا مہینہ ہو گا ہجر کی رات ہے رو رو کے گزاریں گے اسے ہر گلی کوچے میں اجلاس شبینہ ہو گا صبح تقدیر جدھر چاہے گی لے جائے گی نہیں ہوں گے مقدر کا سفینہ ہو گا جسم کے رہ جائیں گی عقاق کی نظریں اس پر تیرے کوچے میں جو اُمید کا زینہ ہو گا تیری ہر ایک ادا رستہ دکھائے گی ہمیں تو نہیں ہوگا ترا دیدہ بینا ہو گا تجھ سے ملنے کی فقط اس کو اجازت ہو گی جس کے اندر نہ انا ہوگی نہ کینہ ہو گا