وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 132 of 508

وفا کے قرینے — Page 132

حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 132 صد حیف جو کہ رہ گئے محروم و بے نصیب عادت بنائی جہل سے کبر و غرور کی! دوزخ کا لطف کیا تجھے جنت کو چھوڑ کر غافل نہ بھول حسرتیں روزنشور کی! نفس دتی کے واسطے مولیٰ کو چھوڑنا صد حیف قدر ہے یہی ربّ شکور کی! محسن کشی ہے باب تو بہ وا ابھی اس کو نہ بند کر رحمت بجوش عفو ہے ربّ غفور کی! ہے آقا اپنے بگاڑنا یاد سب وہ شفقتیں جو ہیں حضور کی! جب تک شجر سے شاخ کا پیوند ہے درست سبز ہے وگرنہ ہے لکڑی تنور کی! سر مخفی نہیں ہے حالت اہل پیام کچھ ہر روز سوجھتی ہے انہیں دُور دُور کی! تقویٰ کا جب لباس ہوا ان کا تار تار خوگر طبائع ہو گئیں فسق و فجور کی!