اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page v of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page v

اسوہ انسان کامل i پیش لفظ بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ انسانیت اپنے خالق و مالک کی تلاش میں سرگرداں تھی کہ ناگاہ ایک شیریں آواز نے صحرائے عرب کا سکوت تو ڑا اے عشق الہی کے متوالو! میرے پیچھے چلے آؤ تو ( اپنی منزل پالو گے ) اللہ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔1 فرمان الہی کی تعمیل میں یہ مژدہ جان فزا سنانے والے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ “ تھے جنہوں نے اپنے رب سے انتہائی درجہ کی محبت کی اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ میں رنگین ہو کر دنیا کو ایک بہترین اور خوبصورت نمونہ دیا تھے۔رسول اللہ کے اخلاق فاضلہ کی جڑ صفات الہیہ میں ہے۔اسی لئے بنی نوع انسان سے ہمدردی والفت کے ذکر میں اللہ تعالیٰ کی صفات رؤف و رحیم آپ کی ذات پر بھی چسپاں کی گئی ہیں تیجس طرح صفت ” نور“ کا اطلاق آپ کی ذات پر کر کے تعلق باللہ میں آپ کے کمال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے میڈر اصل قرآنی تعلیم کا خلاصہ صفات الہیہ میں مضمر ہے۔اسی ”امانت کا بوجھ ہی تھا جسے زمین و آسمان اور پہاڑوں نے بھی اُٹھانے سے انکار کر دیا۔یہ بارامانت اُٹھایا تو ایک انسان کامل‘ نے تیجس کا اکمل اور ارفع فرد ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تبھی تو رسول امین“ آپ کا لقب ٹھہرا۔5 نبوت کے تھے جس قدر بھی کمال وہ سب جمع ہیں آپ میں لامحال 6 صفات جمال اور صفات جلال ہر اک رنگ ہے بس عدیم المثال اللہ تعالیٰ کی تو سب صفات ہی پیاری اور خوبصورت ہیں جن کی مظہر اتم رسول اللہ کی ذات تھی اس لئے ہمارے نبیؐ کے سب اخلاق پاکیزہ حسین اور نورانی ہیں۔آپ نے اپنی بعثت کا مقصد ہی یہ بیان فرمایا کہ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الاخلاقِ میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔اخلاق نام ہے فطری قومی کے برمحل استعمال کا اور بلاشبہ آپ نے مکارم اخلاق کے بہترین نمونے قائم کرنے کا حق ادا کر کے دکھا دیا اور ہر خلق کو اُس کی معراج تک پہنچا دیا۔کیونکہ آپ ہی تھے جن کے تمام فطری قومی کمال اعتدال پر موزوں تھے۔چنانچہ سورہ قلم کی ابتدائی آیات میں پیشگوئی ہے کہ قلم اور دوات سے لکھے جانے والے علوم گواہی دیں گے کہ انكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ یعنی اے نبی يقيناً آپ عظیم الشان اخلاق فاضلہ پر قائم ہیں۔یہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی اور بدستور پوری ہوتی چلی آرہی 1- آل عمران : 3 - الاحزاب : 22 - التوبه: 128, 4-المائدہ: 6 5- الاحزاب:73 6- استگویی : 22 ، 7- القلم: 6