اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 453 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 453

اسوہ انسان کامل 453 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ پاؤں رکھ کے اونٹ پر سوار ہو جاؤ۔( بخاری ) 46 خود حضرت صفیہ کا بیان ہے کہ چونکہ جنگ خیبر میں رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ میرے باپ اور شوہر مارے گئے تھے اس لئے میرے دل میں آپ کے لئے انتہائی نفرت تھی مگر آپ نے میرے ساتھ ایسا حسن سلوک فرمایا کہ میرے دل کی سب کدورت جاتی رہی۔حضرت صفیہ بیان فرماتی ہیں کہ خیبر سے ہم رات کے وقت چلے تو آپ نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیا مجھے اونگھ آگئی اور سر پالان کی لکڑی سے جا ٹکرایا۔حضور نے بڑے پیار سے اپنا دست شفقت میرے سر پر رکھ دیا اور فرمانے لگے۔اے لڑکی۔اے جی کی بیٹی ذرا احتیاط ذرا اپنا خیال رکھو۔پھر رات کو جب ایک جگہ پڑاؤ کیا تو وہاں میرے ساتھ بہت محبت بھری باتیں کیں۔فرمانے لگے دیکھو تمھارا باپ میرے خلاف تمام عرب کو کھینچ لایا تھا اور ہم پر حملہ کرنے میں پہل اس نے کی تھی اور یہ سلوک ہم سے روارکھا تھا جس کی بنا پر مجبور تیری قوم کے ساتھ ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا، جس پر میں بہت معذرت خواہ ہوں۔مگر تم خود جانتی ہو کہ یہ سب کچھ ہمیں مجبوراً اور جوابا کرنا پڑا ہے۔حضرت صفیہ فرماتی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب میں رسول کریم کے پاس سے اٹھی تو آپ کی محبت میرے دل میں ایسی رچ بس چکی تھی کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر مجھے کوئی پیارا نہ رہا۔( ھیثمی )47 اہل خانہ کی تربیت قوام اور راعی یعنی سر پرست اور نگران ہونے کے ناطے بیویوں کی تربیت کی ذمہ داری بھی ایک اہم اور نازک مسئلہ ہے اپنی تمام تر دلدار یوں اور شفقتوں کے ساتھ تربیت کی ذمہ داری ادا کرنے کا حق ہمارے آقا ومولی ہے نے خوب ادا فر مایا۔حسب ارشاد خداوندی جب بیویوں نے آیت تخیر کے بعد آپ کے پاس رہنا ہی پسند فرمایا تو آپ کا ازواج مطہرات کو یہی درس ہوتا ہے کہ آپ دنیا کی عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں۔اس لئے تقویٰ اختیار کریں۔اور لوچ دار آواز سے بات نہ کریں کہ منافق کوئی بد خیال دل میں لائے اور زیادہ وقت گھروں میں ہی ٹھہری رہا کریں۔اور جاہلیت کے طریق کے مطابق زینت و آرائش کے اظہار سے باز رہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت میں کمر بستہ رہیں۔جب کسی غیر مرد سے بات کرنی ہو تو بر عایت پر وہ ایسا کریں اور جب باہر نکلیں تو اوڑھنیاں اس طرح لیا کریں کہ پہچانی نہ جائیں۔یہ سب احکام وہ تھے جن پر عمل درآمد کے نتیجہ میں اہل بیت اور ازواج مطہرات نے مدینہ میں ایک پاکیزہ معاشرہ قائم کر دیا۔رسول اللہ کے گھر میں قیام عبادت کی طرف ہمیشہ توجہ رہی۔آپ قرمایا کرتے تھے کہ بہت خوش قسمت ہیں وہ میاں بیوی جو ایک دوسرے کو نماز اور عبادت کے لئے بیدار کرتے ہوں اور اگر ایک نہ جاگے تو دوسرا اس پر پانی کے چھینٹے پھینک کر اسے جگائے۔(ابن ماجہ ) 48 اپنے اہل خانہ کے ساتھ آپ کا یہی سلوک تھا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور رات کو نماز تہجد کی ادائیگی کے لئے