اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 366 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 366

366 غزوات النبی میں خلق عظیم اسوہ انسان کامل کی مدد پر قادر ہے۔اس آیت اور اس سے اگلی آیات سے اسلامی جنگوں کی غرض وغایت ظاہر وباہر ہے اور صاف پتہ چلتا ہے کہ جنگ کی ابتدا کفار کی طرف سے ہوئی۔دوسرے یہ کہ مسلمان دین کی وجہ سے مظلوم ہوکر رہ گئے تھے۔تیسرے کفار یکھنی کا مقصد دین اسلام کونابود کرنا تھا۔چوتھے مسلمانوں کو محض خود حفاظتی اور اپنے دفاع کی خاطر تلوار اُٹھانی پڑی۔سابق عیسائی راہبہ پروفیسر کیرن آرمسٹرانگ اپنی کتاب ”محمد“ میں جہاد کے اسلامی تصور کا ذکر کرتے ہوئے لکھ ہیں۔"The Jihad is not one of the five pillars of Islam۔It is not the central prop of the religion, despite the common Western view۔But it was and remains a duty for Muslims to commit themselves to a struggle on all fronts-moral, spiritual and political۔to create a just and decent society, where the poor and vulnerable are not exploited, in the way that God had intended man to live۔Fighting and warfare might sometimes be necessary, but it was only a minor part of the whole jihad or struggle۔A well-known traditon (hadith) jihad to the greater jihad, the difficult and crucial effort to conquer the forces of evil in oneself and in one's own society in all the details of daily life۔"(page 168) ”جہاد اسلام کے پانچ ارکان میں شامل نہیں اور اہل مغرب میں پائے جانے والے عام خیال کے برخلاف یہ مذہب (اسلام) کا مرکزی نقطہ بھی نہیں لیکن مسلمانوں پر یہ فرض تھا اور رہے گا کہ وہ اخلاقی ، روحانی اور سیاسی ہر محاذ پر ایک مسلسل جد و جہد اور کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہمیشہ مصروف عمل رکھیں۔تا کہ انسان کے لئے خدا کی منشاء کے مطابق انصاف اور ایک شائستہ معاشرہ کا قیام ہو۔جہاں غریب اور کمزور کا استحصال نہ ہو۔جنگ اور لڑائی بھی بعض اوقات ناگزیر ہو جاتی ہے۔لیکن یہ اس بڑے جہاد یعنی کوشش کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ایک معروف حدیث کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ سے واپسی پر فرماتے ہیں کہ ہم ایک بڑے جہاد سے چھوٹے جہاد کی طرف لوٹ کر آتے ہیں یعنی اس مشکل اور اہم مجاہدہ یا جہاد زندگانی کی طرف جہاں ایک فرد کو اپنی ذات اور اپنے معاشرے میں روز مرہ زندگی کی تمام تر تفاصیل میں برائی کی قوتوں پر غالب آنا ہے۔( آرمسٹرانگ )12 اسلامی جنگوں میں ضابطہ اخلاق اسلامی جنگوں میں ضابطہ اخلاق کا جائزہ لینے کے لئے ضروری ہے کہ دیگر مذاہب میں جنگوں کے ضابطہ کا بھی ذکر کیا جائے۔یہودونصاری کو اپنے دشمنوں سے یہ سلوک کرنے کی تعلیم دی گئی۔” جب خداوند تیرا خدا تجھ کو اس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لئے تو جارہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے اُن