اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 363 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 363

اسوہ انسان کامل 363 نبی کریم کا مصائب پر صبر انہیں مظلوموں میں سے ایک شخص عمارا تھا جسے اس حوصلہ وصبر کی وجہ سے جو اُس نے ظلموں کے برداشت میں ظاہر کیا حضرت عمار کہنا چاہئے اُن کی مشکیں باندھ کر اُسی پتھریلی زمین پر لٹاتے تھے اور اُن کی چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے۔کم دیتے تھے کہ محمد کو گالیاں دو اور یہی حال اُن کے بڑھے باپ کا کیا گیا۔اُن کی مظلوم بی بی سے جس کا نام سمیہ تھا یہ ظلم نہ دیکھا گیا اور وہ عاجزانہ فریاد زبان پر لائی اس پر وہ بے گناہ ایماندار عورت جس کی آنکھوں کے رو برواس کے شوہر اور جوان بیچے پر ظلم کیا جاتا تھاہر نہ کی گئی اور اُ سے سخت بے حیائی سے ایسی تکلیف دی گئی جس کا بیان کرنا بھی داخل شرم ہے۔آخر اس عذاب شدید میں تڑپ تڑپ کر اس ایماندار بی بی کی جان نکل گئی۔( پر کاش ) 27 مشہور اطالوی مستشرق ڈاکٹر وگلیری نے رسول اللہ کے صبر واستقامت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کی زندگی میں اسلام صرف توحید کا داعی تھا۔لیکن جب آپ اور آپ کے ساتھی ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تو اسلام ایک زبر دست سیاسی طاقت بن گیا۔محمد نے قریش کے مطاعن اور مظالم کو صبر سے برداشت کیا اور بالآخر آپ کو اذنِ الہی ملا کہ آپ آپنے دشمنوں کا مقابلہ کریں۔پس مجبور ہو کر آپ نے تلوار کو بے نیام کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے الہامات میں یہ تعلیم ہوتی تھی کہ مظالم کو صبر سے برداشت کرنا چاہئے۔( وگلیری) 28 مشہور مؤرخ گبن رسول اللہ کے صبر واستقامت کی دادیوں دیتا ہے:۔اُن سے پہلے کوئی پیغمبر اتنے سخت امتحان سے نہ گزرا تھا جیسا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیونکہ منصب نبوت پر سرفراز ہوتے ہی انہوں نے اپنے آپ کو سب سے پہلے اُن لوگوں کے سامنے پیش کیا جو انہیں سب سے زیادہ جانتے تھے۔اور جوان کی بشری کمزوریوں سے بھی سب سے زیادہ واقف ہو سکتے تھے۔لیکن دوسرے پیغمبروں کا معاملہ برعکس رہا کہ وہ سب جگہ سب کے نزدیک معزز و محترم ٹھہرے الا یہ کہ جو انہیں اچھی طرح جانتے تھے۔“ ( گبن ) 29 1 بخاری (81) کتاب الادب باب 95 2 مسلم (12) كتاب الجنائز باب 2 بخاری (84) كتاب الرقاق باب 11 حواله جات