اسوہء انسانِ کامل — Page 357
اسوہ انسان کامل 357 نبی کریم کا مصائب پر صبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصائب پر صبر صبر کے لغوی معنے روکنے کے ہیں۔یہ ایک اعلیٰ درجے کا جامع خلق ہے۔اس کے بنیادی معنی میں ضبط نفس ، شدت اور بختی بر داشت کرنے کے ہیں اور خدا کی راہ میں دیکھا اٹھا کر بغیر کسی شکوہ کے راضی برضا ہو جانے کا یہ خلق ” صبر جمیل“ کہلاتا ہے۔صفات الہیہ میں سے ایک اہم صفت الصبور اور ”صبار ہے۔جو مبالغہ کے صیغے ہیں اور جس کا مطلب بہت زیادہ عبر سے کام لینے والا۔اللہ تعالیٰ کا صبر یہ ہے کہ وہ نافرمانوں کو جلد سزا نہیں دیتا۔چنانچہ روایت ہے کہ کوئی انسان اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا نہیں ہے۔لوگ اس کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور وہ ان سے درگزر کرتے ہوئے انہیں رزق بہم پہنچاتا ہے۔(بخاری) 1 صفات الہیہ اختیار کرنا ہی انسان کے لئے جہاد بالنفس کی بہترین صورت ہے چنانچہ انسان یہی صفت صبر اختیار کرتا ہے تو اس میں کئی خلق جمع ہو جاتے ہیں۔صبر کی حقیقت اور اجر انسان کا مصیبت کے وقت ضبط نفس اور برداشت سے کام لینا صبر ہے تو میدان جنگ میں تلواروں اور تیروں کے سامنے اپنے آپ کو روک رکھنا شجاعت ہے۔عیش و عشرت اور اسراف سے رک جانا زہد ہے تو شرمگاہ کی حفاظت عفت ہے۔کھانے سے اپنے آپ کو روک رکھنا وقار ہے تو غصہ کے اسباب سے رُکنا حلم ہے۔اس جگہ نبی کریم کے مصائب پر صبر کا ذکر مقصود ہے۔آنحضرت فرماتے ہیں کہ جب کسی مسلمان کو مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اللہ کے حکم کے مطابق إِنَّا لِلَّهِ " پڑھ کر پھر یہ دعا کرتا ہے اللهم أجرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفُ لِي خَيْراً مِنْهَا کہ اے اللہ مجھے اس مصیبت کا اجر عطا کر اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا کر تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتا ہے۔(مسلم )2 حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے کہ جب میں مومن بندے کی دنیا سے کوئی قیمتی اور محبوب چیز لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کی جڑ ا سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔( بخاری )3 ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے جو خیر ہی خیر ہے اور یہ شان صرف مومن کی ہے کہ اگر اسے تنگی ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لئے خیر و برکت کا موجب ہو جاتا ہے اور اگر وہ تکلیف پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے خیر و برکت کا موجب ہوتا ہے۔(مسلم) 4