اسوہء انسانِ کامل — Page 337
اسوہ انسان کامل 337 نبی کریم کا خُلق ، مہمان نوازی ایک بچہ تھا۔آپ نے فرمایا سناؤ بکری نے کیا جنا ہے؟ اس نے کہا بکروٹی۔فرمایا اسکی جگہ ایک بکری ہمارے لئے ذبح کر دو۔پھر بے تکلفی سے فرمایا آپ لوگ یہ نہ سمجھو کہ آپ کی وجہ سے جانور ذبح کروارہا ہوں۔دراصل ہماری سو بکریاں ہیں اور ہم یہ تعداد اس سے زیادہ نہیں کرنا چاہتے۔جب کوئی بکری بچہ دیتی ہے تو اسکی بجائے ہم ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔(ابوداؤد ) 18 میزبان سے جو سلوک مہمان کو کرنا چاہئے اس کا ذکر بھی احادیث میں ملتا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ جب انصار میں سے کسی کے ہاں مہمان جاتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ کھانا وغیرہ تناول فرما کر واپس جانے سے پہلے وہاں دو رکعت نماز نفل ادا فرماتے یا موقع کی مناسبت سے دُعا ہی کروا دیتے۔اہل خانہ کے لئے اور ان کے رزق میں برکت کیلئے خاص طور پر دعا کرتے۔( بخاری )19 مہمان سے بے تکلفی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجور اور روٹی موجود تھی کہ حضرت صہیب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا آگے ہو کر کھاؤ۔وہ کھجور کھانے لگے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کی آنکھ میں سرخی دیکھ کر ) فرمایا تمہاری ایک آنکھ دکھتی ہے۔( زیادہ کھجور کھانے میں احتیاط کرو) صہیب نے بے تکلفی سے عرض کیا میں دوسری آنکھ سے کھاتا ہوں۔( احمد ) 0 20 نبی کریم ﷺ اپنے میزبان سے بھی بے تکلفی سے پیش آتے تھے۔ایک فارسی نو مسلم حضور کا ہمسایہ بناجو بہت عمدہ شور بہ تیار کیا کرتا تھا۔اس نے حضور کے لئے سالن تیار کیا اور دعوت دینے آیا۔آپ نے حضرت عائشہ کے بارہ میں پوچھا کہ ان کو بھی ساتھ بُلایا ہے نا؟ وہ بولا نہیں حضور نے فرمایا پھر ہم بھی نہیں آتے۔دوسری دفعہ وہ پھر دعوت دینے آیا تو آپ نے پھر وہی سوال دو ہرایا۔تیسری مرتبہ اس نے حامی بھر لی۔تب حضور اور حضرت عائشہ اس کے گھر کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔( مسند احمد ) 21 رسول کریم کو خود مہمان بنتے ہوئے بھی بے تکلفی ہی مرغوب خاطر تھی۔ایک دفعہ ابوشعیب انصاری نے رسول اللہ کی دعوت کی اور عرض کیا کہ کوئی سے چار افراد اپنی مرضی سے ساتھ لے آئیں۔دعوت پر جاتے ہوئے ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا۔رسول کریم نے میزبان کو بے تکلفی سے فرمایا کہ آپ نے تو پانچ افراد کی دعوت کی تھی۔ایک زائد آدمی ہمارے ساتھ آگیا ہے۔اگر آپ اجازت دیں تو یہ آجائیں ورنہ یہ واپس چلے جاتے ہیں۔میزبان نے بہت خوشی سے اجازت دے دی۔( بخاری ) 22 الغرض رسول اللہ نے ضیافت کے آداب کا بھی حق ادا کر کے دکھا دیا۔اللہ تعالیٰ نہیں ہے حضور ﷺ کے اسوہ کی روشنی میں مہمان نوازی کے اسلوب اور سلیقے سیکھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔