اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 292 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 292

اسوہ انسان کامل 292 آنحضرت الله بحیثیت معلم و مربی اعظم رسول کریم پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ نے کس طرح محبت سے مجھے سمجھایا۔مجھے کوئی گالی نہیں دی ،سرزنش نہیں کی ، مارا پیٹا نہیں۔( احمد ) 22 ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے ساتھ نماز کیلئے کھڑے ہوئے۔ایک اعرابی نماز میں دعا کرتے ہوئے کہنے لگا۔اے اللہ مجھ پر اور محد پر رحم کرنا اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا۔نماز کے بعد رسول کریم نے اعرابی کو سمجھایا کہ دعا تو ایک بہت وسیع چیز ہے۔تم نے اس کے آگے منڈ پر کھڑی کر دی ہے۔یعنی اللہ کی رحمت کے آگے بند باندھنا ہرگز مناسب نہیں۔( بخاری )23 رسول کریم بسا اوقات نادانستہ غلطی سے چشم پوشی فرما کر حوصلہ افزائی کے ذریعہ صحابہ کے دل جیت لیتے اور انہیں اعلیٰ نیکیوں کے عزم کی توفیق مل جاتی۔حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے ہمیں ایک مہم پر بھجوایا۔اچانک لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ہمیں بھی اس کی لپیٹ میں آکر پیچھے ہٹنا پڑا۔جب ہم واپس آئے تو سخت پشیمان تھے کہ میدان جنگ سے بھاگ کر خدا کی ناراضگی کے مور د بن گئے۔ہم نے کہا کہ مدینہ داخل ہوتے وقت ہم چپکے سے جائیں گے تا کہ ہمیں کوئی دیکھ نہ لے۔پھر مدینہ پہنچ کر ہم نے سوچا کہ رسول کریم کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کر کے پوچھیں کہ اگر تو ہماری توبہ قبول ہو سکتی ہے تو ہم یہاں ٹھہریں ورنہ ہم واپس میدان جنگ میں لوٹ جائیں۔ہم فجر کی نماز سے پہلے رسول اللہ کے انتظار میں تھے کہ آپ تشریف لائے۔ہم نے کھڑے ہو کر عرض کیا ہم میدان جنگ کے بھگوڑے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم تو پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو ہم نے وفور محبت سے آپ کے ہاتھ چومے اور عرض کیا کہ ہم تو فرمانبرداروں کی جماعت ہیں۔( احمد )24 اجتماعی تربیت کا مرکزی نظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی ارشاد کے تابع یہ نظام تربیت بھی جاری فرما رکھا تھا کہ مختلف علاقوں سے لوگ مرکز میں آکر اور آپ کی صحبت میں رہ کر دین کا گہرا فہم حاصل کریں اور واپس جا کر اپنی قوم کی تربیت کریں۔(سورۃ التوبۃ :122) چنانچہ اصحاب صفہ کا ایک گروہ ہمیشہ مسجد نبوی کے قرب میں رسول اللہ کے زیر تعلیم و تربیت رہتا تھا جن کے قیام و طعام کا مناسب بندوبست بھی آپ فرماتے تھے۔حضرت مالک بن گو مرث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ بہت رحیم و کریم اور نرم خو تھے۔ہم نے آپ کی صحبت میں ہیں دن قیام کیا۔اس دوران آپ نے محسوس کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کے لئے اداس ہو گئے ہیں۔آپ ہم سے ہمارے اہل خاندان کے بارے میں تفصیل پوچھنے لگے۔ہم نے ان کے بارے میں بتایا۔مالک کہتے ہیں حضور بہت نرم دل اور پیار کرنے والے تھے۔آپ نے ہمیں اپنے گھروں میں واپس بھجواتے ہوئے فرمایا ان کو جا کر بھی یہ باتیں سکھاؤ اور جس