اسوہء انسانِ کامل — Page 288
288 آنحضرت له بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل دوں اور اہل صفہ (غریب صحابہ ) کو چھوڑ دوں؟ جو فاقہ سے بے حال ہیں اور ان کے اخراجات کے لئے کوئی رقم میسر نہیں۔ان قیدیوں کو کے عوض ملنے والی رقم اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔‘ بین کر وہ دونوں واپس گھر چلے گئے۔رات کو نبی کریم ان کے گھر تشریف لے گئے۔وہ دونوں اپنے کمبل میں لیٹے ہوئے تھے۔رسول اللہ کو دیکھ کر اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا۔اپنی جگہ لیٹے رہو۔پھر فرمایا تم نے مجھ سے جو مانگا کیا میں اس سے بہتر چیز تمہیں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا ضرور بتائیں۔آپ نے فرمایا یہ چند کلمات ہیں جو جبریل نے مجھے سکھائے ہیں کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔جب رات بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو۔حضرت علی فرماتے تھے جب سے رسول اللہ نے مجھے یہ کلمات سکھائے میں انہیں آج تک پڑھنا نہیں بھولا۔کسی نے تعجب سے پوچھا کہ جنگ صفین کے ہنگاموں میں بھی آپ یہ نہیں بھولے؟ کہنے لگے ہاں جنگ صفین میں بھی یہ ذکر الہی کرنا میں نے یا درکھا تھا۔نبی کریم نے ایک اور صحابی کو یہی تسبیحات سوکی تعداد میں پڑھنے کی نصیحت کی اور فرمایا کہ اس نبی کی برکت تمہارے لئے سوغلاموں سے بڑھ کر ہے۔(احمد) 6 نصیحت اور یاد دہانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تربیت کے سلسلہ میں قرآنی اسلوب ہمیشہ یادر کھتے تھے اور فَذَرُ“ (یعنی نصیحت کرتے رہنے ) کے حکم کے تابع بعض اہم مضامین یا نصائح کا تکرار پسند فرماتے تھے ، بالخصوص تقویٰ کی نصیحت کی یاددہانی کرواتے تھے۔نکاح وغیرہ کے موقع پر خطبہ الحاجہ میں تقویٰ کے مضمون پر مشتمل آیات تلاوت فرماتے تھے۔عام وعظ میں بھی اِتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (سورة الحشر : 19) کی کثرت سے تلاوت کرنے کا ذکر روایات میں ہے۔جس میں تقویٰ کے ساتھ محاسبہ نفس اور مسابقت فی الخیرات کے مضمون کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔(احمد) 7 محاسبه نفس تربیت کا ایک نہایت عمدہ طریق محاسبہ نفس اور مسابقت فی الخیرات ہے۔نبی کریم اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک روز صحابہ سے پوچھا کہ آج مسکین کو کھانا کس نے کھلایا؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں مسجد میں آیا تو ایک محتاج کو دیکھا۔میں نے اپنے بچے عبد الرحمان کے ہاتھ سے روٹی کا ٹکڑا لے کر اس مسکین کو دے دیا۔(ابوداؤد )8 اسی طرح آپ نے پوچھا آج اپنے کسی بھائی کی عیادت کس نے کی؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ مجھے اپنے بھائی عبدالرحمان بن عوف کی بیماری کی اطلاع ملی تھی۔آج نماز پر آتے ہوئے میں ان کے گھر سے ہو کر ان کا حال پوچھتے