اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 223 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 223

اسوہ انسان کامل 223 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول محبت دووجہ سے پیدا ہوتی ہے، حسن سے یا احسان سے۔حسن طبعاً اپنے اندر ایک کشش رکھتا ہے، ایک حسین وجود ہر صاحب ذوق کا دل اپنی طرف کھینچ کر کہتا ہے کہ نظارہ حسن تو یہاں ہے۔پھر ہمارے نبی کر یم ﷺ تو حسن ظاہری و باطنی کا بہترین نمونہ تھے، ایک شاعر نے آپ کے بارے میں کیا خوب کہا ہے وَأَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَقَطُّ عَيْنٍ وَأَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِسَاء کہ اے محمد ! تجھ سے زیادہ حسین کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور تجھ سے بڑھ کر خوبصورت کبھی عورتوں نے پیدا نہیں کیا۔خُلِقْتَ مُبَرَّاً مِّنْ كُلِّ عَيْبٍ كَأَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ اور اے پاک نبی آپ کو ہر عیب سے اس طرح پاک وصاف پیدا کئے گئے گویا جس طرح آپ چاہتے تھے اسی طرح ہی بنائے گئے۔ما بتاب و آفتاب سے بھی بڑھ کرحسین اس پیکر حسن روحانی نے مطلع عالم پرطلوع ہو کر کیا قیامت ڈھائی اُس کا ایک نظارہ عاشق صادق برات بن عازب کی نظر سے کیجئے۔ان کا بیان ہے چودہویں کی رات تھی، چاند اپنے پورے جو بن پر تھا۔ہمارے محبوب رسول نے سرخ جوڑا پہنا ہوا تھا۔میں ایک نظر چودہویں کے چاند پر اور ایک اپنے پیارے محبوب کے روشن چہرے پر ڈالتا تھا اور خدا کی قسم اس رات مجھے نبی کریم کا چہرہ چودہویں کے چاند سے کہیں زیادہ حسین معلوم ہوتا تھا۔(ترمذی)1 بے شک اس چاند چہرے کی کشش بھی نرالی تھی۔مگر حسن ظاہری سے کہیں بڑھ کر آپ کے حسن باطنی کو کمال حاصل تھا۔آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ یہ دلوں کی فطرت ہے کہ وہ احسان کرنے والوں کی طرف مائل اور ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔(ابن عدی )2 رسول کریم نے تو بلاشبہ محبت اور احسان کر کے اپنے صحابہ کے دل جیتے۔آنحضرت کی محبتوں کا ہی کرشمہ تھا جس نے نئی محبتوں کو جنم دیا اور اس محسن انسانیت کے ہزاروں عاشق پیدا ہوئے۔یہ آپ کی بے لوث محبت کی برکت تھی۔صحابہ آپ کو دل و جان سے چاہتے تھے اور آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کو تیار ہوتے تھے۔پس رسول اللہ کی شفقتوں کے جواب میں صحابہ کے رسول اللہ سے عشق و فدائیت کے نظارے بھی دراصل سیرت رسول کا ایک اہم باب ہے۔محبتوں کے یہ قصے دل کو بہت ہی لبھانے والے ہیں۔ع دامان نگه تنگ و گل حسن توبسیار