اسوہء انسانِ کامل — Page 156
اسوہ انسان کامل 156 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں مکی دور میں ہجرت مدینہ اور مکہ واپسی کی پیشگوئی قرآن شریف میں سورہ قصص ( جو مکی سورۃ ہے ) کے آغاز میں حضرت موسیٰ“ کے حالات اور سفر ہجرت کا ذکر ہے۔آخر میں مثیل موسیٰ نبی کریم کے مکہ سے ہجرت کرنے اور پھر مکہ لوٹ کر آنے کی پیشگوئی واضح الفاظ میں کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَآؤُكَ إِلى مَعَادٍ ط ( سورة القصص: 86) یعنی وہ جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا ہے، ضرور تجھے ایک واپس آنے کی جگہ کی طرف واپس لے آئے گا۔یہ پیشگوئی جن حالات میں کی گئی ، ان میں مکہ سے نکالے جانے کے بعد پھر واپس آنا بظاہر ایک ناممکن سی بات معلوم ہوتی تھی۔فتح مکہ سے چند روز قبل تک بھی معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ اس شان سے مکہ میں داخل ہوں گے۔مگر یہ پیشگوئی صرف آٹھ سال کے عرصہ میں کس شان سے پوری ہوئی۔کسرای شاہ ایران کی ہلاکت کی پیشگوئی رسول اللہ نے کسرای شاہ ایران کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے خط لکھا۔اس نے نہایت بے ادبی سے وہ خط پھاڑ دیا۔رسول کریم کو علم ہوا تو آپ نے کسری کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی دعا کی۔پھر نہایت معجزانہ رنگ میں اس زمانہ کی یہ طاقتور حکومت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوئی اور اس کا جابر و ظالم حاکم بھی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہوا اور رسول خدا کی سچائی کا نشان بنا۔تفصیل اس کی یوں ہے کہ نبی کریم کے تبلیغی خط کو کسری نے اپنی ہتک سمجھا اور یمن کے حاکم باذان کو حکم بھجوایا کہ اس شخص کو جو حجاز میں ہے دو مضبوط آدمی بھجواؤ جو گرفتار کر کے اُسے میرے پاس لے آئیں۔باذان نے ایک افسر بابویہ نامی اور ایک ایرانی شخص کے ہاتھ اپنے خط میں آنحضرت کو لکھا کہ آپ ان دونوں کے ساتھ شاہ ایران کے پاس حاضر ہوں۔بابویہ کو اس نے کہا اس دعویدار نبوت سے جا کر خود بات کرو اور اس کے حالات سے مجھے مطلع کرو۔یہ لوگ طائف پہنچے اور آنحضرت کے بارہ میں پوچھا۔انہوں نے کہا وہ تو مدینہ میں ہیں۔طائف والے اس پر بہت خوش ہوئے کہ اب کسرای شاہ ایران اس شخص کے پیچھے پڑ گیا ہے۔وہ اس کے لئے کافی ہے۔دونوں قاصد مدینہ پہنچے۔بابویہ نے رسول اللہ سے بات چیت کی اور آپ کو بتایا کہ شہنشاہ کسری نے شاہ یمن باذان کو حکم بھجوایا ہے کہ آپ کو گرفتار کر کے اس کے پاس بھجوایا جائے اور مجھے باذان نے بھیجا ہے کہ آپ میرے ساتھ چلیں۔اگر آپ میرے ساتھ چلنے پر تیار ہوں تو میں شنہشاہ کسریٰ کے نام ایسا خط دوں گا کہ وہ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا۔اگر آپ میرے ساتھ چلنے سے انکاری ہیں تو آپ خود جانتے ہیں کہ اس میں آپ کی بلکہ پوری قوم کی ہلاکت اور ملک کی تباہی و بربادی ہے۔آپ نے ان دونوں نمائندوں سے فرمایا کہ اس وقت تم دونوں جاؤ صبح آنا۔رسول اللہ کو اسی رات اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی کہ شنہشاہ ایران کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیا گیا ہے۔اس نے اپنے باپ کو فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو قتل کر دیا ہے۔