اسوہء انسانِ کامل — Page 143
143 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز اسوہ انسان کامل ان کی حالت ایسی نازک تھی کہ انہوں نے اپنے ورثہ وغیرہ کے بارے میں آخری وصیت بھی کر دی۔آنحضور نے دعا کی کہ ”اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت ان کے لئے جاری کر دے۔پھر حضرت سعد کو اس دعا کی قبولیت کی بشارت بھی دے دی اور فر مایا اے سعد! اللہ تعالیٰ تمہیں لمبی عمر عطا کرے گا اور بہت سے لوگ تجھ سے فائدہ اٹھا ئیں گے اور کئی لوگ نقصان اٹھا ئیں گے۔( بخاری ) 68 اس پیشگوئی میں ان کے ذریعہ حاصل ہو نیوالی فتوحات کی طرف اشارہ تھا۔چنانچہ حضرت سعد کو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر شفا عطا فرمائی۔وہ اُن دس صحابہ میں سے تھے جن کو رسول اللہ نے ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دی۔سن 55ھ میں بعمر ستر سال آپ کا انتقال ہوا۔آپ کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے ایران جیسی عظیم الشان مملکت کی فتح کی بنیاد رکھوائی۔( ابن حجر ) 69 (33) ایک دفعہ نبی کریم قضائے حاجت کیلئے تشریف لے گئے حضرت عبداللہ بن عباس اس وقت کم سن بچے تھے۔دس گیارہ برس کی عمر ہوگی۔انہوں نے حضور کے لئے پانی کا لوٹا بھر کے رکھ دیا۔حضور تشریف لائے تو پوچھا یہ پانی کس نے رکھا ہے؟ عرض کیا گیا عبداللہ بن عباس نے ! آپ کے دل میں اس بچہ کیلئے تشکر کا ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ اسے محبت سے اپنے ساتھ چمٹالیا اور دعا کی اے اللہ ! اس بچہ کو دین کی سمجھ عطا کر، اے اللہ ! اس بچہ کو کتاب اور حکمت کا علم عطا فرما۔( بخاری ) یہ دعا پایہ قبولیت کو پہنچی اور حضرت عبداللہ بن عباس امت کے عظیم الشان اور زبر دست فقیه اور عالم ٹھہرے اور ”جبر الامة یعنی امت کے متبحر عالم کے طور پر مشہور ہوئے۔(34) رسول کریم نے ایک صحابی حضرت جریر بن عبد اللہ کوڈ والخلصہ کا بت خانہ منہدم کرنے کیلئے بھجوایا۔یہ معبد بیت اللہ کے مقابل پر کعبہ یمانی کے نام سے تعمیر کیا گیا تھا۔حضرت جریر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں گھوڑے پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا۔رسول اللہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور دعا کی اے اللہ ! اس کو مضبوط اور ثابت قدم کر دے اور اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنادے۔حضرت جریر بیان کرتے تھے کہ اس دعا کا ایسا اثر ہوا کہ اس کے بعد میں کبھی گھوڑے سے گرا نہیں۔( بخاری ) 71 (35) عبدالحمید بن سلمہ اپنے دادا کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور یوں ان میں علیحدگی ہوگئی۔وہ اپنے نابالغ بچے کی حضانت (سپر داری ) کا مسئلہ حضور کی خدمت میں فیصلہ کیلئے لائے۔حضور نے فرمایا کہ بچے کو اختیار دے دیتے ہیں۔کم سن بچوں کا رجحان طبعا والدہ کی طرف ہوتا ہے۔حضور کی نورانی بصیرت دیکھ رہی تھی کہ بچے کی کفالت والد کے پاس بہتر طور پر ہو سکے گی۔بچے کو جب اختیار دیا گیا تو وہ والدہ کی طرف جانے لگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچہ کی بہبود کے طبعی جوش سے اس کے حق میں دعا کی کہ اے اللہ! اس بچے کو باپ کی طرف رہنمائی کر دے۔وہی بچہ جو تھوڑی دیر پہلے ماں کی طرف دوڑا جارہا تھا ، لیک کر باپ سے لپٹ گیا اور یوں حضور کی دعا کی فوری قبولیت کا نظارہ بچے کے والدین نے دیکھا۔( احمد )72