اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 133 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 133

اسوہ انسان کامل 133 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز اَللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيْفاً۔اے اللہ ! وادی طائف کی قوم ثقیف کو ہدایت عطا فرما۔دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی یہ دعا بھی قبولیت کا شرف پاگئی اور 9ھ میں قوم ثقیف نے مدینہ میں آکر اسلام قبول کر لیا۔(ترمندی) 34 (4) یمن کے قبیلہ دوس کے سردار طفیل بن عمرو نے قبول اسلام کے بعد نبی کریم سے درخواست کی کہ میں اپنے قبیلہ کا سردار ہوں اور انہیں جا کر اسلام کی طرف بلانا چاہتا ہوں۔آپ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے کوئی تائیدی نشان عطا فرمائے۔نبی کریم نے اُسی وقت دعا کی کہ اے اللہ طفیل بن عمرو کو کوئی نشان عطا کر۔یہ دعا عجیب رنگ میں قبول ہوئی جس نے حضرت طفیل کو بھی مستجاب الدعوات بنا دیا۔حضرت طفیل کہتے ہیں میں اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اپنے شہر میں داخل ہوتے وقت میری پیشانی پر روشنی کا ایک نشان ظاہر ہوا۔میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! میری قوم یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اپنا دین تبدیل کرنے کی وجہ سے میرا چہرہ مسخ ہو گیا ہے۔اس لئے یہ نشان کہیں اور ظاہر فرمادے۔چنانچہ میری چابک کے سرے پر وہ روشنی ظاہر ہوگئی اور جب میں شہر میں داخل ہوا تو لوگ میری چابک سکتے سے ایک روشن چراغ کا نظارہ کرنے لگے طفیل کے والد اور بیوی وغیرہ رشتہ داروں نے تو ان کی حکمت عملی سے نیز یہ نشان دیکھ کر حق قبول کر لیا مگر قوم پھر بھی نہ مانی۔تب حضرت طفیل نے دوبارہ مکہ آکر رسول اللہ سے اپنی قوم کے خلاف بد دعا کی درخواست کی۔نبی کریم نے ہاتھ اُٹھائے اور یہ دعا کی کہ اے اللہ دوس قبیلہ کو ہدایت عطا فرما اور ان کو یہاں لے کر آ۔اور طفیل کو یہ نصیحت فرمائی کہ آپ واپس جا کر نہایت حکمت، نرمی اور محبت سے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلائیں۔اس نصیحت پر عمل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور دوس قبیلہ مسلمان ہونے لگا۔غزوہ خیبر کے زمانہ میں حضرت طفیل اپنی قوم میں سے مسلمان ہونے والوں کو لیکر آئے اور جلد ہی مدینہ میں دوس کے ستر اسی گھرانے آباد ہو گئے۔یہ بلاشبہ رسول اللہ کی دعا کا معجز نمانشان تھا۔( بخاری )35 (5) دوس قبیلہ کے ابو ہریرہ اور ان کی مشرک والدہ بھی اسی دعا کا پھل تھے۔ایک روز حضرت ابو ہریرہ نے اپنی مشرک والدہ کو اسلام قبول کرنے کو کہا تو انہوں نے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی۔ابو ہریرہ بڑے کرب کے ساتھ دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل سے یہ دعا نکلی۔اللھم اهْدِ أَمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ" اے اللہ! ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے۔یہ دعا عجیب معجزانہ طور پر قبول ہوئی۔ابو ہریرہ گھر واپس آئے تو ان کی والدہ میں ایک عجیب تغیر اور انقلاب پیدا ہو چکا تھا۔وہ بآواز بلند أَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ " پڑھ کر اپنے قبول اسلام کا اعلان کر رہی تھیں۔حضرت ابو ہریرہ پھولے نہ سمائے اور خوشی کے آنسو لئے اسی وقت پھر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔سارا واقعہ آپ سے عرض کیا۔دعا پر ان کا ایمان اتنا پختہ ہو چکا تھا کہ عرض کیا اے خدا کے رسول ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری اور میری والدہ کی محبت مومنوں کے دلوں میں پیدا کر دے اور رسول اللہ نے ان کے حق میں یہ دعا بھی کر دی۔( ابن حجر ) 36