اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 77 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 77

اسوۃ انسان کامل 77 رسول اللہ کی محبت الہی و غیرت توحید گئے اے اسامہ کیا تم اللہ کے احکام میں سے ایک حکم کے بارہ میں سفارش کی جرات کرتے ہو؟“ ( بخاری ) 49 احکام الہی کی تعمیل کی غیرت کا ایک اور واقعہ حضرت ابوسعید بن معلی بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں نے جواب نہیں دیا اور نماز پڑھتا رہا۔نماز سے فارغ ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جب وہ تم کو پکارے تا کہ تمہیں زندہ کرے۔( بخاری 50 ) حضور کا اشارہ سورۃ انفال آیت 25 کی طرف تھا۔حضرت ابوبکر" تہجد کی نماز میں بہت آہستہ آواز میں قرآن شریف کی تلاوت کرتے تھے اور حضرت عمر ذرا اونچی آواز میں پڑھتے تھے۔رسول اللہ نے دونوں سے اس کی وجہ پوچھی۔حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ میں اپنے رب سے سرگوشی میں بات کرتا ہوں۔وہ میری حاجت کو جانتا ہی ہے۔حضرت عمر نے کہا میں شیطان کو بھگا تا ہوں اور سوئے ہوئے کو جگاتا ہوں۔جب قرآن شریف کی یہ آیت اتری کہ نماز میں بہت اونچی تلاوت نہ کرو، نہ ہی بہت ہلکی آواز سے پڑھو اور در میانی راہ اختیار کرو۔(بنی اسرائیل: 111) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر سے کہا کہ آپ ذرا اونچی آواز میں پڑھا کریں اور حضرت عمر سے فرمایا کہ آپ ذرا ہلکی آواز میں پڑھا کریں تا کہ قرآنی حکم کی تعمیل ہو۔(سیوطی ) 51 احکام الہی کی پابندی کے لئے غیرت کے بارہ میں حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی ذات کے بارہ میں کبھی کسی سے کوئی انتظام نہیں لیا۔ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے کسی حکم کو تو ڑا جا تا تو پھر آپ ضرور غیرت دکھاتے اور سزا دیتے تھے۔( بخاری )52 رسول اللہ کی آخری بیماری میں کسی بیوی نے حبشہ کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو ماریہ ( یعنی حضرت مریم ) کے نام سے موسوم تھا۔آپ اپنی بیماری کی تکلیف دہ حالت میں بھی خاموش نہ رہ سکے۔جوش غیرت توحید میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ برا ہو ان یہودیوں اور عیسائیوں کا جنہوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کے مزاروں کو معابد بنالیا۔گو یا بالفاظ دیگر اپنی وفات کو قریب جانتے ہوئے آپ بیویوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ دیکھو میرے بعد تو حید پر قائم رہنا اور میری قبر پر سجدہ نہ ہونے دینا۔( بخاری )3 گویا یہ آپ کی تو حید کے قیام کے لئے آخری کوشش بھی تھی اور خواہش بھی تبھی تو آپ یہ دعا کیا کرتے تھے اللهُم لَا تَجْعَلْ قَبْرِى وَثْنا اے اللہ میری قبر کو بت پرستی کی جگہ نہ بنانا۔(احمد ) 54 پھر دیکھو خدا نے اپنے اس موحد بندے کی غیرت توحید کی کیسے لاج رکھی کہ توحید پرستوں کے بادشاہ کا روضہ مبارک ہر قسم کے شرک کی آلائش اور بت پرستی سے پاک ہے۔خدا کے ایک موحد بندے کی توحید خالص کا نشان _ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔53