اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 521 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 521

521 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم اسوہ انسان کامل مدینہ میں آنے کے بعد ایک دفعہ نبی کریم انصاری سردار حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کو تشریف لے گئے۔راستے میں یہود مشرکین اور مسلمانوں کی ایک مجلس میں منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی بھی موجود تھا۔رسول اللہ کی سواری کے آنے سے گرد اٹھی تو اس نے منہ ڈھانپ لیا اور رسول اللہ کو برا بھلا کہنے لگا۔نبی کریم جب سعد بن عبادہ کے گھر پہنچے اور ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے مدینہ کے مخصوص حالات میں عبداللہ بن ابی سے در گزر کرنے کی درخواست کی۔اور رسول کریم نے اسے معاف کر دیا۔( بخاری ) 11 دوسری روایت میں ہے کہ رسول کریم سردار منافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کے پاس سے گزرے وہ ٹیلوں کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا، ناک بھوں چڑھا کر حقارت سے نبی کریم کو ابن ابی کبشہ کے نام سے پکار کر کہنے لگا کہ اس نے اپنی ساری غبار ہم پر ڈالی ہے۔اس کے بیٹے عبداللہ نے جو ایک مخلص صحابی اور عاشق رسول تھے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت عطا فرمائی ہے۔اگر آپ ارشاد فرما ئیں تو میں اس کا سر قلم کر دوں۔نبی کریم نے فرمایا در نہیں وہ تمہارا باپ ہے اس سے نیکی اور احسان کا سلوک کرو۔( بیٹمی )12 رسول کریم نے اس معاند دشمن کو ایسا صدق دل سے معاف کیا کہ اس کی تمام تر گستاخیوں اور شرارتوں کے باوجود اس کی وفات پر اس کا جنازہ پڑھایا حالانکہ حضرت عمر نے باصرار اس کا جنازہ پڑھانے سے روکتے ہوئے رسول اللہ کو عبد اللہ بن ابی کی سب زیادتیاں اور دشمنیاں یاد کرائیں۔مگر رسول کریم نے مسکراتے ہوئے فرمایا اے عمر! پیچھے ہٹ جاؤ۔مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ تم ان کے لئے استغفار کر دیا نہ کرو ( برابر ہے ) اگر تم ستر مرتبہ بھی استغفار کروتو اللہ ان کو نہیں بخشے گا۔پھر فرمایا اگر مجھے پتہ ہو کہ میرے ستر سے زائد مرتبہ استغفار سے یہ بخشے جائیں گے تو میں ستر سے زائد بار استغفار کروں گا۔پھر آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا جنازہ کے ساتھ قبر تک تشریف لے گئے اور تدفین تک وہاں رہے۔( بخاری ) 13 غزوہ ذات الرقاع میں تعاقب کر کے ارادہ قتل کے لئے آنے والے غورث بن حارث کو بھی آپ نے معاف فرما دیا۔جس نے حضور کے سوتے ہوئے قتل کے ارادہ سے آپ کی تلوار پر قبضہ کر لیا تھا۔مگر آپ کے الہی رعب و ہیبت سے قتل پر قادر نہ ہو سکا۔اس جانی دشمن کو بھی آپ نے معاف فرما دیا۔( بخاری ) 14 زہر دینے والی یہودیہ سے عفو غزوہ خیبر کے بعد مشہور یہودی جرنیل مرحب کے بھائی کی بیٹی زینب بنت الحارث نے بکری کے گوشت میں زہر ملا کر اس کا بھنا ہوا گوشت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بطور تحفہ بھیجا۔رسول کریم دستی کا گوشت کھانے لگے اور دیگر صحابہ نے بھی کھایا۔اچانک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کھانے سے ہاتھ روک لو۔پھر حضور نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا کیا تم نے اس کھانے میں زہر ڈالا تھا؟ اس نے کہا ہاں مگر آپ کو کیسے پتہ چلا؟ حضور نے اپنے ہاتھ میں دستی کے