اسوہء انسانِ کامل — Page 520
اسوہ انسان کامل 520 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم ایک دفعہ رسول کریم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے وہ آپس میں کشتی کا مقابلہ کر رہے تھے۔حضور نے پوچھا کیا ہورہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ فلاں شخص ایسا پہلوان ہے کہ جسے کوئی بھی کشتی میں پچھاڑ نہ سکے وہ اسے گرا دیتا ہے۔رسول کریم نے فر مایا کیا میں تمہیں اس سے بڑے پہلوان کے بارہ میں نہ بتاؤں؟ وہ شخص بڑا بہادر ہے کہ جو دوسرے آدمی کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنا غصہ دبا لیتا ہے اور اپنے اوپر اور اپنے شیطان پر بھی غالب آتا ہے اور اپنے مد مقابل کے شیطان پر بھی غالب آتا ہے۔( ابن حجر ) 3 حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی خاص نصیحت فرمائیں۔حضور نے فرمایا کبھی غصے میں مت آنا اور یہ جملہ آپ نے کئی مرتبہ دہرایا کہ غصے میں مت آؤ۔غصہ میں مت آؤ۔( بخاری )4 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عفو کر نے کے بے نظیر نمونے نہ صرف دوستوں بلکہ دشمنوں کے حق میں بھی ظاہر ہوئے اور دنیا پر ثابت ہوا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفت عفو“ کے بہترین مظہر تھے۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو سے رسول اللہ کی توریت میں بیان فرمودہ علامت پوچھی گئی تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ نبی تند خو اور سخت دل نہ ہوگا، نہ بازاروں میں شور کرنے والا ، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دے گا بلکہ عضو اور بخشش سے کام لے گا“۔( بخاری )5 دراصل یہ اشارہ توریت کی اس پیشگوئی کی طرف تھا۔جس میں لکھا ہے۔”وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔وہ نہ چلائے گا نہ شور کرے گا نہ بازاروں میں اس کی آواز سنائی دے گی۔وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائے گا۔وہ راستی سے عدالت کرے گا“۔(یسعیاہ )6 رسول کریم نے ایک دفعہ یہ قصہ سنایا کہ ایک تاجر کا لوگوں سے لین دین کا معاملہ تھا۔وہ اپنے کارکنوں سے کہتا کہ تنگدست سے در گزر کرنا اور اسے مہلت دینا شاید اس طرح اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر کرے۔پھر واقعی اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر رکا سلوک فرمایا۔( بخاری )7 حضرت عائشہ نبی کریم کے عفو کرم کے بارہ میں یہ گواہی دیتی تھیں کہ نبی کریم نے کبھی اپنی ذات کی خاطر اپنے اوپر ہونے والی کسی زیادتی کا انتقام نہیں لیا۔(مسلم ) 8 حضرت خدیجہ کے صاحبزادے ہند کو رسول اللہ کے زیرتربیت رہنے کی سعادت عطا ہوئی تھی۔ان کی روایت ہے کہ رسول اللہ دنیا اور اس کے اغراض کی خاطر کبھی غصے نہیں ہوتے تھے۔اسی طرح اپنی ذات کی خاطر نہ کبھی آپ غصے ہوئے نہ بدلہ لیا۔(ترندی) ایک دفعہ ایک شخص نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم کتنی دفعہ خادم کو معاف کریں۔حضور خاموش رہے۔اس نے پھر سوال کیا۔حضور پھر خاموش رہے۔جب تیسری مرتبہ اس نے یہی سوال دو ہرایا تو آپ نے قرمایا میں تو دن میں ستر مرتبہ اسے معاف کرتا ہوں۔(ابوداؤد ) 10