اسوہء انسانِ کامل — Page 512
اسوہ انسان کامل اہل نجران کی مذہبی آزادی 512 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار اہل نجران سے جو معاہدہ ہوا اس میں انہیں مذہبی آزادی کے مکمل حقوق عطا کئے گئے۔معاہدہ یہ ہوا کہ وہ دو ہزار چادریں سالانہ مسلمانوں کو بطور جزیہ دیں گے نیز یمن میں خطرے کی صورت میں تمھیں گھوڑے، تمہیں اونٹ، ہمیں ہتھیار ہر قسم کے یعنی تلوار، تیر، نیزے عاریتاً مسلمانوں کو دیں گے۔جو مسلمان بعد استعمال واپس کر دیں گے۔مسلمان ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے۔ان کے تمام مالکانہ حقوق مسلّم ہو نگے۔ان کا کوئی گر جا گرایا نہیں جائے گا ، نہ ہی کسی استقلف یا کسی پادری کو بے دخل کیا جائے گا اور نہ ان کے حقوق میں کوئی تبدیلی یا کمی بیشی ہوگی ، نہ ہی اُن کی حکومت اور ملکیت میں۔نہ انہیں ان کے دین سے ہٹایا جائے گا جب تک وہ معاہدہ کے پابند رہیں گے۔ان شرائط کی پابندی کی جائے گی اور ان پر کوئی ظلم یا زیادتی نہیں ہوگی۔(ابوداؤد ) 38 علامہ بیہقی نے اس معاہدہ کے حوالہ سے بعض اور شقوں کی صراحت کی ہے۔مثلاً یہ کہ اہل نجران کے تمام پادریوں کا ہنوں ، راہوں ، عبادت گاہوں اور ان کے اندر رہنے والوں اور ان کے مذہب وملت پر قائم تمام لوگوں کو محمد رسول اللہ کی طرف سے اللہ اور رسول کی مکمل امان حاصل ہوگی۔کسی پادری کو اس کے عہدہ سے یا کسی راہب کو اس کی عبادت سے ہٹایا نہ جائے گا۔ان حقوق کے عوض اہل نجران معمولی سالا نہ ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔(بیہقی )39 یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نجران کے عیسائیوں سے مصالحت جزیہ پر نہیں بلکہ عام حکومتی ٹیکس پر تھی جس میں انہیں مکمل مذہبی آزادی عطا کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ معاہدہ نجران کے متن میں کہیں بھی جزیہ" کا لفظ موجود نہیں ہے۔چنانچہ فقہاء نے اس پہلو سے بحث کی ہے کہ اہل نجران پر جو ٹیکس عائد کیا گیا وہ عام ٹیکس تھا یا جزیہ؟ امام ابو یوسف (۱۸۲ھ) نے اہل نجران کے ٹیکس کے لئے فدیہ کا نام تجویز کیا ہے، اور لکھا ہے کہ بے شک جز یہ تمام اہل ذمہ اہل حیرہ اور دیگر علاقوں کے یہود و نصاریٰ پر واجب ہے سوائے بنو تغلب اور اہل نجران کے جو خاص طور پر اس سے مستثنیٰ ہیں۔(ابو یوسف ) 40 جزیہ کے متعلق یہ امر تو وضاحت کا محتاج نہیں کہ اس کی بناء ہی اسلام قبول نہ کرنا اور اپنے مذہب پر قائم رہنا ہے۔گویا اپنی ذات میں جزیہ اسلام کی مذہبی آزادی کی شاندار علامت ہے۔ابتدائی اسلامی دور میں جزیہ کو دستور کے مطابق صاحب استطاعت مردوں سے 48 درھم سالانہ اوسط درجہ کے افراد سے 24 درہم اور غریب مزدور طبقہ سے 12 درھم سالانہ وصول کیا جاتا تھا۔(ابو یوسف ) 41 جبکہ اہل نجران کی کئی لاکھ کی آبادی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو ہزار پوشاکیں سالانہ اور دو ہزار اوقیہ ٹیکس مقررفرمایا تھا جو جزیہ کے مقابل پر بہت معمولی مالیت ہے۔کیونکہ نجران کی آبادی میں انداز ایک لاکھ جنگجو پر اوسط درجے کے جزیہ کا ہی فی کس حساب لگایا جائے تو یہ کم درجے کا اندازہ بھی 24لاکھ درہم بن جاتا ہے۔پھر جزیہ کی صورت میں ضروری تھا کہ دیگر ذمے داریاں بھی اہل نجران پر عائد کی جاتیں۔مگر اہل نجران کے ساتھ صلح میں یمن کو جنگوں میں حسب ضرورت اسلحہ کی