اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 505 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 505

اسوہ انسان کامل 505 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار کہتے ہیں اسی بارہ میں یہ آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین کے بارہ میں جنگ نہیں کی۔( بخاری )4 اسلامی حکومت میں مسلمانوں پر ذمہ داریاں زیادہ اور غیر مسلموں پر نسبتا کم ہیں۔مسلمانوں پر جہاد فرض ہے اور لڑائی کی صورت میں بہر حال اس میں شامل ہونا ان کے لئے ضروری ہوتا ہے۔جبکہ غیر مسلموں کے لئے یہ لازم نہیں۔مسلمانوں پر پیدا وار کا دسواں حصہ بطور عشر حکومت کو دینا واجب ہے۔غیر مسلموں پر یہ ذمہ داری نہیں۔اسی طرح مسلمانوں کو ہر سال اپنی آمدنی کا اڑھائی فیصد زکوۃ اور مشر یعنی زرعی پیداوار کا دسواں حصہ دینا لازم ہے۔جبکہ غیر مسلموں پر جزیہ کی صورت میں معمولی ٹیکس مقرر ہوتا ہے۔غیر مسلموں کی آزادی میں بھی اسلام نے مسلم غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں رکھی بلکہ اصولی طور پر غلاموں کی آزادی کی تعلیم دی۔نبی کریم ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر ہزاروں غیر مسلم غلاموں کو آزاد کر کے اس کا عملی نمونہ عطا فر مایا۔مشرکین مکہ سے حسن سلوک مشرکین مکہ نے آنحضرت کو مکہ سے جلا وطن کیا تھا اور مدینہ میں بھی چین کا سانس نہ لینے دیا مگر آنحضرت نے موقع آنے پر ہمیشہ اُن سے احسان کا سلوک ہی روا رکھا۔اہل مکہ کو ہجرت مدینہ کے بعد ایک شدید قحط نے آگھیرا۔یہاں تک کہ ان کو ہڈیاں اور مردار کھانے کی نوبت آئی۔تب مجبور ہو کر ابو سفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے محمد ! آپ تو صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔آپ کی قوم اب ہلاک ہو رہی ہے آپ اللہ سے ہمارے حق میں دعا کریں ( کہ قحط سالی دور فرمائے ) اور بارشیں نازل ہوں ورنہ آپ کی قوم تباہ ہو جائے گی“۔رسول اللہ نے ابوسفیان کو احساس دلانے کے لئے صرف اتنا کہا کہ تم بڑے دلیر اور حوصلہ والے ہو جو قریش کی نافرمانی کے باوجود ان کے حق میں دعا چاہتے ہو۔مگر دعا کرنے سے انکار نہیں کیا کیونکہ اس رحمت مجسم کو اپنی قوم کی ہلاکت ہرگز منظور نہ تھی۔پھر لوگوں نے دیکھا کہ اسی وقت آپ کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھ گئے اور اپنے مولیٰ سے قحط سالی دور ہونے اور باران رحمت کے نزول کی یہ دعا بھی خوب مقبول ہوئی۔اس قدر بارش ہوئی کہ قریش کی فراخی اور آرام کے دن لوٹ آئے۔مگر ساتھ ہی وہ انکار و مخالفت میں بھی تیز ہو گئے۔( بخاری (5) آنحضرت نے اہل مکہ کی امداد کے لئے کچھ رقم کا بھی انتظام کیا اور وہ قحط زدگان کے لئے مکہ بھجوائی۔(السرخسی ) 6 مسلمانوں کے دشمن قبیلہ بنو حنیفہ کا سردار شمامہ بن اثال گرفتار ہو کر پیش ہوا تو رسول کریم نے از راہ احسان اسے آزاد کر دیا۔رسول اللہ کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔اس کے بعد وہ حضور کی اجازت سے عمرہ کرنے مکہ گئے تو مسلمانوں کے طریق پر لبيك اللهم لبيك کہنا شروع کیا۔قریش نے انہیں پکڑ لیا اور کہا کہ تمہاری یہ جرات کہ مسلمان ہو کر عمرہ کرنے آئے ہو۔تمامہ نے کہا خدا کی قسم تمہارے پاس میرے علاقہ یمامہ سے غلے کا ایک دانہ