اسوہء انسانِ کامل — Page 502
اسوہ انسان کامل 502 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبر دار عظیم رسول بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم، بربریت اور تعصبات کی دنیا میں مبعوث ہو کر عدل و احسان ، مذہبی رواداری اور حریت ضمیر و مذھب کی ایسی اعلی تعلیم فرمائی جس کی نظیر نہیں ملتی۔اسلامی تعلیم سے حسن کا اندازہ کرنے کے لئے دیگر مذاہب کا تقابلی مطالعہ بہت مفید ہوگا۔یہودونصاریٰ کو توربیت میں غیر قوموں کے ساتھ سلوک کے لئے ی تعلیم دی گئی۔” جب خداوند تیرا خدا تجھ کو اس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لئے تو جارہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے اُن بہت سی قوموں کو یعنی حتیوں اور جر جاسیوں اور اُمور یوں اور کنعانیوں اور فرزیوں اور جو یوں اور بیوسیوں کو جو ساتوں قو میں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے اور جب خداوند تیرا خدا ان کو تیرے آگے شکست دلائے اور تو ان کو مارلے تو تو ان کو بالکل نابود کر ڈالنا، تو ان سے کوئی عہد نہ باندھنا، اور نہ ان پر رحم کرنا تو ان سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا ، نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لئے ان کی بیٹیاں لینا، کیوں کہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں یوں خداوند کا غضب تم پر بھڑ کے گا اور وہ تجھ کو جلد ہلاک کر دے گا۔بلکہ تم ان سے یہ سلوک کرنا کہ ان کے مذبحوں کو ڈھا دینا، ان کے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا، اور ان کی یسیرتوں کو کاٹ ڈالنا اور ان کی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلا دینا۔(استثناء ) 1 اسلامی تعلیم بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کی بے نظیر تعلیم دی اور اعلان کیا کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔( سورة البقرة : 257) نیز فرمایا ” جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔“ (سورۃ الکہف: 30) اسلام کی امتیازی شان یہ ہے کہ اس نے دیگر مذاہب و اقوام کے ساتھ عدل و انصاف کی نہ صرف تعلیم دی بلکہ بانی اسلام اور ان کے بچے پیروؤں نے اس پر عمل کر کے غیر مذاہب کے ساتھ رواداری اور احسان کے بہترین نمونے پیش کئے۔بے شک اسلامی تعلیم میں قیام عدل کی خاطر ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے لیکن عفو کوزیادہ پسند کیا گیا ہے اور فرمایا کہ اس کا اجر خدا نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔(سورۃ الشوری: 41) غیر قوموں اور مذاہب کی مذہبی زیادتیوں کے جواب میں کسی قسم کی زیادتی کرنے سے منع کرتے ہوئے اسلام یہ تعلیم