اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 485 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 485

اسوہ انسان کامل 485 رسول اللہ کا غلاموں سے حسن سلوک تھے۔جب وہ ٹوکری آپ نے بانٹ دی۔تب وہاں سے اُٹھے۔(ابن ماجہ ) 25 رسول اللہ کے خادم اور غلام تو آپ کے ایسے عاشق تھے کہ یہ دنیا تو کیا اگلے جہاں میں بھی آپ کی غلامی کے لئے ترستے تھے۔آپ کے آزاد کردہ غلام ثوبان کو ایک روز یہی خیال آیا تو روتا ہوا آیا کہ اگلے جہاں میں جب آپ بلند درجوں پر ہونگے آپ کے دیدار کیسے ہو سکیں گے؟ فرمایا انسان کو جس سے محبت ہو اس کی معیت بھی عطا کی جاتی ہے۔(سیوطی ) 26 ایک اور خادم ربیعہ اسلمی کی خدمتوں سے خوش ہو کر نبی کریم نے کچھ انعام اس کی مرضی کے مطابق دینا چاہا اور فرمایا مانگ لو جو مانگتا ہے۔اس خوش نصیب نے بھی یہی کہا کہ یا رسول اللہ جنت میں آپ کی رفاقت چاہئیے۔فرمایا کچھ اور مانگ لو اس نے کہا یہی کافی ہے آپ نے فرمایا پھر سجدوں، نمازوں اور دعاؤں میں میری مدد کرنا۔( مسلم ) 27 مشہور اطالوی مستشرق پروفیسر ڈاکٹر گلیری نے لکھا ہے:۔غلامی کا رواج اسی وقت سے موجود ہے جب سے انسانی معاشرے نے جنم لیا اور اب تک بھی باقی ہے۔مسلمان خانہ بدوش ہوں یا متمدن ان کے اندر غلاموں کی حالت دوسرے لوگوں سے بدرجہا بہتر پائی جاتی ہے۔یہ نا انصافی ہوگی کہ مشرقی ملکوں میں غلامی کا مقابلہ امریکہ میں آج سے ایک سوسال پہلے کی غلامی سے کیا جائے۔حدیث نبوی کے اندر کس قدر انسانی ہمدردی کا جذ بہ پایا جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں یہ مت کہو کہ وہ میرا غلام ہے بلکہ یہ کہو کہ وہ میرالڑ کا ہے اور یہ نہ کہو کہ وہ میری لونڈی ہے بلکہ یہ کہو کہ وہ میری لڑکی ہے۔اگر تاریخی لحاظ سے ان واقعات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے اس باب میں بھی عظیم الشان اصلاحیں کی ہیں۔اسلام سے پہلے قرضہ نہ ادا ہونے کی صورت میں بھی ایک آزاد آدمی کی آزادی کے چھن جانے کا امکان تھا لیکن اسلام کے آنے کے بعد کوئی مسلمان کسی دوسرے آزاد مسلمان کو غلام نہیں بنا سکتا تھا۔آنحضرت ﷺ نے غلامی کو محدود ہی نہیں کیا بلکہ آپ نے اس بارے میں اوامر و نواہی جاری کئے اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ قدم بڑھاتے رہیں حتی کہ وہ وقت آجائے جب رفتہ رفتہ تمام غلام آزاد ہو جائیں۔( گلیری) 28 حواله جات 1 السيرة النبوية لابن هشام جلد 2 ص 644 و مجمع الزوائد هیثمی جلد6ص115 2 بخاری(60) كتاب الجهاد باب 140 3 مسند احمد بن حنبل جلد 1 ص 30, 383